بلوچستان؛سانجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پرپھوٹنے کاخدشہ

Jan 05, 2018

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/01/Balochistan-Politics-Upd-Qta-1500-Pkg-05-01.mp4"][/video]

کوئٹہ: بلوچستان میں سانجھے کی ہانڈی بیچ چوراہے پر پھوٹنے کا خطرہ منڈلانے لگا۔ ن لیگ کے مزید دو ارکان اسمبلی مستعفیٰ ہو گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گی یا کامیاب ؟ فیصلہ 9 جنوری کو ہو گا۔ایوان میں حکومتی اتحاد سے باغی اوراپوزیشن کو ملا کرمخالفین کی تعداد چوبيس ہوگئی۔

بلوچستان حکومت کے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے مزید 2 ارکان خاتون وزیر محنت راحت جمالی اور وزیراعلیٰ کے مشیر ایکسائز عبدالماجد ابڑو نے بھی اپنے استعفے گورنر بلوچستان ،محمد خان اچکزئی کو بھجوا دیے۔ عبدالماجد ابڑو دو روز قبل ہی ایکسائز کے مشیر مقرر کے گئے تھے۔

گزشتہ روز وزیراعلیٰ نواب ثنااللہ زہری کے مشیرپرنس احمد علی احمدزئی نے اپنا استعفیٰ گورنرکو بھجوایا تھا،اس سے پہلے وزیرماہی گیری میرسرفراز چاکر ڈومکی بھی استعفیٰ دے چکے ہیں۔

بلوچستان میں سیاسی بحران ٹل نہ سکا ، وزیراعلیٰ بلوچستان کے مخالفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایوان میں حکومتی اتحاد سے باغی اور اپوزیشن کو ملا کر مخالفین کی تعداد 24 ہوچکی ہے۔

مرکزی سطح پر ن لیگ کی قیادت سیاسی بحران کے خاتمے کے لئے سرگرم ہے ، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر کے تحریک عدم ناکام بنانے کی درخواست کی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بحران پر قابو پانے کی ذمہ داری وفاقی وزراء احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق کے سپرد کر دی ہے۔

ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری اتحادی جماعتوں پشتونخوامیپ اور نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کر تحریک کی ناکامی کی لئے کوشاں ہیں ۔

نواب ثناء اللہ زہری کے مخالف ارکان کا موقف ہے کہ تحرک عدم اعتماد کی وجہ فنڈز نہ دینے ، حلقوں میں مداخلت اور سرکاری نوکریوں میں نظر اندازی ہے جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور ان کے اتحادی کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد سینیٹ الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے تحریک عدم اعتماد کے لئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 9 جنوری کو طلب کرلیا ہے۔ سماء

PML N

SANA ULLAH ZEHRI

Tabool ads will show in this div