ایک ہفتے میں سیز فائر نہ ہوا تو مذاکرات ختم سمجھیں، شیخ رشید

Nov 30, -0001

ویب ڈیسک


اسلام آباد : شیخ رشید نے کہا ہے کہ ایک ہفتے میں سیز فائر نہ ہوا تو مذاکرات ختم سمجھیں، مذاکراتی کمیٹیاں میڈیا کی ٹیمیں ہیں، مارچ کے بعد معاملہ ادھر یا اُدھر ہوجائے گا، مذاکراتی عمل میں فوج آن بورڈ نہیں ہے۔


سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ جو کچھ طالبان نے کیا اب فوج بھی کرے گی، فوج کو موقع ملے گا تو طالبان کیخلاف بڑی کارروائی کرے گی، طالبان بھی مکمل طور پر تیار ہیں، اسلام آباد میں کوئی بڑا واقعہ ہونے جارہا ہے، کراچی میں پولیس پر حملہ اور ایف سی اہلکاروں کا قتل بڑے سنگین واقعات ہیں۔


انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے میرے بیان کے رد عمل میں کہا کہ فوج آن بورڈ ہے، میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ فوج آن بورڈ نہیں، مذاکرات کیلئے بنائی گئیں کمیٹیاں میڈیا کی ٹیمیں ہیں، فوج اور آئی ایس آئی کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے، طالبان سے مذاکرات کا معاملہ زیادہ دن نہیں چلے گا۔


شیخ رشید کہتے ہیں کہ دونوں کمیٹیاں مزید 15 دن بات چیت کرسکتی ہیں اس کے بعد وہ خود تھک کر بیٹھ جائیں گے، موجودہ ٹیموں کے ذریعے مذاکرات نہیں ہوسکتے، مارچ کے بعد معاملہ ادھر یا ادھر ہوگا، میری دعا ہے کہ معاملات مذاکرات سے حل ہوجائیں، سب سے پہلے 72 گھنٹوں سے ایک ہفتے میں سیز فائر ہونا چاہئے اگر ایسا نہ ہوا تو مذاکرات ختم سمجھیں۔


ان کا کہنا ہے کہ کئی بار طالبان نے ہمارے فوجی اور ہم نے ان کے قیدی واپس کئے ہیں، گردنیں کاٹنا، ایف سی اہلکاروں کا قتل زیادتی ہیں، فوج کے تین چار معاملات پر اختلافات ہیں، طالبان سے بات چیت کو قبول کرنا فوج کیلئے بہت مشکل ہے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج ایک بڑی طاقت ہے دعا کریں جنگوں کی نوبت نہ آئے، نواز شریف جس مشکل میں پھنسے ہیں اس سے نکلنے کیلئے ان کے پاس ٹیم نہیں، میری نظر میں دہشت گردی کا پورا مسئلہ سیاسی ہے، اس وقت ملک ڈوب رہا ہے، میں آواز اٹھا رہا ہوں اگر میری جان چلی جائے تو کیا فرق پڑے گا۔


اے ایم ایل کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کی اپنی سیاسی فوج ہے، اپوزیشن لیڈر بننے کیلئے الطاف بھائی نے اپنے تمام ووٹ مجھے دینے کا کہا تاہم میرے اتحادیوں نے ووٹ نہیں دیا، کراچی میں جنگ اور اصل لڑائی ہوگی، متحدہ اور دینی قوتیں آمنے سامنے ہوں گی۔


شیخ رشید کہتے ہیں کہ اگر نواز شریف سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف کو سزا دے کر فوج کو کنٹرول کرلیں گے تو یہ خام خیالی ہے، ان سے کہتا ہوں کہ اپنے سے بڑا کام نہ کریں پہلے بھی ان کے ساتھ ہاتھ ہوچکا ہے، پرویز مشرف کی کہانی پاک فوج کے ساتھ سیٹ ہونی ہے، پوری قوم اکٹھی ہوسکتی ہے اگر پرویز مشرف کیس کا آغاز 12 اکتوبر سے کیا جائے، 3 نومبر پر آرٹیکل 6 لگ ہی نہیں سکتا۔


ان کا کہنا ہے کہ الیکشن میں صرف 35 پنکچر نہیں بلکہ پوری ٹیوب ہی پنکچر زدہ ہے، جب تک لوگ سڑکوں پر نہیں آئیں گے انہیں حق نہیں ملے گا، ایک دو ہزار جعلی ووٹوں سے کوئی جیتتا، ہارتا نہیں، بوگس ووٹنگ روکنے کیلئے پولنگ اسٹیشن کے باہر نہیں بلکہ اندر لوگوں کو کھڑا کرتے ہیں، مجھ پر حملے کے بعد پہلا فون آرمی چیف کا آیا، پولیس برابر میں موجود تھی تاہم اپنے زخمیوں اور لاشوں کو لے کر خود اسپتال گئے۔


رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ میوزیشن، فزیشن، پولیٹیشن، جرنلسٹ، جنرل اور جج کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے، بھارت میں سرکار کو چونا لگا کر نجی سیکٹر کے لوگ ارب پتی نہیں بنتے، ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے، نواز شریف کی بڑی طاقت ٹیکس چور ہیں، سرمایہ دار، کارخانہ دار اور انڈسٹری مالکان ٹیکس نہیں دیتے۔


شیخ رشید کہتے ہیں کہ ایٹمی دھماکا کرنے کیلئے نواز شریف سمیت بہت سے لوگ تیار نہیں تھے، راجہ ظفر الحق، گوہر ایوب اور میں نے جوہری تجربہ کرنے پر زور دیا، سرتاج عزیز نے جب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اکاؤنٹس فریز کئے تو نواز شریف کو اس کا علم نہیں تھا، پرویز مشرف دور میں کرپشن کے الزامات پر کمیٹی بنائی گئی جس نے مجھے کلیئر کردیا تھا جبکہ پی سی بی چیئرمین توقیر ضیاء سے استعفیٰ لے لیا گیا۔ سماء

میں

ایک

sargodha

offers

شیخ

settler

entry

فائر

masood

Tabool ads will show in this div