غیر قانونی قید، کریمنل ریکارڈ پیش نہ کیا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے، سندھ ہائیکورٹ

کراچی : کراچی سينٹرل جیل میں 3 ملزمان کی 22 سال سے غیرقانونی قید ميں ہونے کا انکشاف ہوا ہے، عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر ملزمان کا کریمنل ريکارڈ پیش نہ کیا گيا تو کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔

کئی سال جيل ميں گزر گئے، نا ٹرائل ہوا، نا جرم کا پتا لگا، سینٹرل جیل کراچی میں 3 ملزمان کی غير قانونی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جو 1995ء سے قيد ہیں، سید آصف علی، فاضل اور خواجہ سلیم 14 سال کی سزا بھی کاٹ چکے، ليکن پوليس کے پاس انہيں جيل ميں رکھنے کا نہ ہی کوئی جواز ہے نہ کوئی ريکارڈ۔

سندھ ہائی کورٹ نے جیل سپرنٹنڈنٹ عبدالخالق پر برہمی کا اظہار کیا، جسٹس اقبال کلہوڑو نے ريمارکس دیئے یہ کیسے ممکن ہے کہ ملزمان جیل میں ہیں اور انتظامیہ کے پاس ریکارڈ ہی نہیں، يہ انتہائی خطرناک عمل ہے، کریمنل ريکارڈ پیش کریں ورنہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔

عدالت نے واضح طور پر کہا کہ اگر ملزمان کیخلاف ریکارڈ کی تفصيلات نہ مليں تو جیل انتظامیہ کیخلاف پرچہ ہوگا، آپ کو جیل میں بند کریں گے تو پتہ چل جائے گا، قید ہونا کتنا مشکل ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے جیل حکام کو ہر صورت 21 جنوری تک مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا، تينوں ملزمان کیخلاف تھانہ فيروز آباد ميں مقدمات درج ہيں۔ سماء

CENTRAL JAIL

illegal

SINDH HIGH COURT

Tabool ads will show in this div