پاکستان کاٹرمپ کےبیان پردباؤ نہ لینےکادوٹوک عزم

اسلام آباد : قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر سخت مایوسی کااظہارکرتےہوئے اسےمستردکردیاہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس  ہوا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف، وزیر دفاع خرم دستگیر خان، وزیر داخلہ احسن اقبال، چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف کمیٹی زبیر محمود حیات، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ، ایئرچیف سہیل امان اور نیول چیف ظفر محمود عباسی بھی موجود تھے۔

قومی سلامتی کمیٹی نےڈونلڈٹرمپ کےبیان کوحقائق کےمنافی قراردےدیااورسیاسی وعسکری قیادت نےکسی قسم کاکوئی دباؤقبول نہ کرنےکاعزم ظاہرکیا۔

سلامتی کمیٹی نے بھرپورعزم ظاہرکیاکہ ملکی سلامتی ہرحال میں مقدم رکھی جائےگی۔ اعلی قیادت نے پاکستان کی حالیہ صورتحال پردوست ممالک کواعتماد میں لینےکافیصلہ کیا۔اجلاس میں پاکستان کےبیرونی ممالک سےتعلقات کاازسرنوجائزہ لیاگیا۔

قومی سلامتی کمیٹی کےاجلاس کے اعلامیےمیں کہاگیاکہ پاکستان نےعلاقائی اورعالمی سلامتی وامن میں اہم کرداراداکیاہے۔ کمیٹی نےدہشت گردی کیخلاف جنگ اورعلاقائی استحکام کیلئےکردارجاری رکھنےکاعزم ظاہرکیا۔ اعلامیہ میں بتایاگیاکہ نئی امریکی پالیسی کےاعلان کےبعدپاکستانی عہدے داران کی امریکی حکام سےملاقاتیں ہوئیں۔

مزید جانیے : پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد دیکر بیوقوفی کی، ٹرمپ

اعلامیہ میں مزید کہاگیاکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نےسب سےزیادہ نقصان اٹھایا۔ پاکستانی عوام ملکی دفاع کی صلاحیت رکھتےہیں۔

سلامتی کمیٹی نے زور دیاکہ اتحادیوں پرالزام لگاکرافغانستان میں امن قائم نہیں کیاجاسکتا۔ پاکستان کوافغانستان میں مشترکہ ناکامی کاذمےداربھی قرارنہیں دیاجاسکتا ۔افغانستان میں ناکامی کاذمےدارپاکستان نہیں ۔افغانستان میں امن عمل خطےاورعالمی امن وسلامتی کیلئےضروری ہے۔افغانستان میں سیاسی محاذآرائی،کرپشن اورمنشیات بڑےچیلنجزہیں۔ سلامتی کمیٹی

نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ حکومتی عملداری کےباہرافغان علاقےعالمی دہشتگردوں کی پناہ گاہوں سےبھرےہیں۔ دہشتگردوں کی ان پناہ گاہوں سےہمسایہ ممالک اورخطےکوخطرات ہیں۔  سماء

 

NATIONAL SECURITY COMMITTEE

Tabool ads will show in this div