طاقت کا خمار

نفسیاتی ڈاکٹروں کے مطابق جس چیز کو حاصل کرنے کی تمنا بڑھ جائے مگر پھر بھی لاحاصل رہے تو رفتہ رفتہ یہی خواہش دل کا روگ بن جاتی ہےمگر طاقت کے نشے میں مخمور عالمی مولا جٹ کو کوئی کیسے سمجھائے کہ دنیا خواہشات پر نہیں معروضات پر چل رہی ہے۔

برس ہا برس بیت گئے مگر عالمی بدمعاش کی سوچ نہ بدلی، ٹرمپ نے صدارتی کرسی سنبھالی تو اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ مسلمان ممالک کی امریکہ میں پابندی کے بکھیڑے سے لیکرپاکستان اور افغانستان کی پالیسی تک، ایران کے خلاف سعودی عرب میں اتحادی افواج کی پیٹ پرتھپتھپاہٹ سے لیکر اسرائیل میں دیوارگریہ کے سامنے گریہ و زاری تک، یروشلم کو صیہونی ریاست کا دارالخلافہ تسلیم کرنے سے لیکر اقوام متحدہ میں ڈھٹائی اور پھر مدد کے نام پر کئی ممالک کو دھمکانے تک ، ٹرمپ سرکار نے وہ سب کردکھایا جسے دنیا میں شورش اور فساد کیلئے کافی سمجھا جاتا ہے۔

عراق کے امن کو نیست و نابود کیا مگر نہ تو کیمیائی ہتھیار ملے اور نہ ہی ایٹمی ڈیٹرنس، صدام حسین کو پھانسی پر چڑھاتے وقت شاید مولاجٹ نے یہ سوچ رکھا تھا کہ خس کم تو جہاں پاک ہوگا مگر افسوس کہ ایسا ہونہ سکا۔صدام حسین کودارپرلٹکانے کے بعد بھی عراق کی حالت نہ بدلی۔ معاملات بد سے بدتر ہوگئے۔ غیریقینی صورتحال سے دوچار عراقی عوام دہائیاں دے رہے ہیں کہ وہ کن جرموں کی سزا پارہے ہیں۔امن کے نام پرعالمی افواج (نیٹو) نےعراق کو حالت جنگ میں دھکیل دیا تو دوسری جانب مولاجٹ کی شیطانی پالیسیوں سے شدت پسند تنظیم داعش وجود میں آگیا جس نے شام میں بھی اپنے پنجے مضبوط کررکھے ہیں۔

پورے عالم میں یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ افغانستان میں چت ہوچکا ہے۔ شکست ایسی کھا چکا ہے کہ نسل درنسل یاد رہے گی۔ اربوں ڈالر جھونکے، اپنے بندے مروائے، افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی مگر جس جیت کیلئے امریکا گزشتہ سولہ برس سے سرگرم رہا وہ آج تک نہ ملی۔

افغانستان میں قیام امن کیلئے کوششیں ناکام ہوئیں تو الٹا پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔ کبھی حقانی نیٹ ورک کا راگ آلاپا تو کبھی دہشتگردوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا۔ امریکی نائب صدر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ٹرمپ نے پاکستان کو نوٹس دے رکھا ہے کہ دہشت گردوں کو پناہ دیکر بہت کچھ کھو دیگا۔ جس پرپاکستان نے بھی دوٹوک جواب دیا کہ پاکستان برائے فروخت نہیں۔ امریکہ سے ڈالر نہیں اعتماد کی ضرورت ہے۔ قیام امن کیلئے پاکستان نے بہت کچھ کرلیا۔۔ اب افغانستان میں امریکہ کو خود جنگ لڑنا ہوگی۔چوہدری صاحب سے کوئی پوچھے کہ سرکار پاکستان تیری خاطر اورکیا کچھ کرے؟ تیری محبت میں اپنی جنت جیسی سرزمین کو دوزخ بنادیا، فوج اور سویلین کی ہزاروں شہادتیں، انفراسٹرکچرکی بربادی، اربوں ڈالر کا نقصان کیا کافی نہیں؟ چوہدری جی تجھ کو کتنے کا لہو چاہئے ۔ جو تیرے سرخ سفید چہرے کو مزید گلنار کرے۔

پاکستان پر الزامات لگانے والے ذرا اپنے گریبان میں بھی تو جھانکیں کہ جدید ہتھیاروں سے لیس اتحادی اور افغانستان کی مقامی افواج کے ہوتے ہوئے بھی طالبان کو اب تک کمزور کیوں نہیں کیا جاسکا؟ طالبان کا کنٹرول اب تک چالیس فیصد سے زیادہ علاقوں پر کیوں برقرارہے؟ سرحد پار سے پاکستان پر حملے ہورہےہیں ، پاکستان دشمن افغانستان کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہورہےہیں مگر الٹا الزام ہم پر کہ ہم وفادار نہیں؟

[caption id="attachment_457407" align="alignnone" width="562"] Newspaper headlines and clippings are posted on a wall inside a staff office at the White House in Washington May 2, 2011, the morning after U.S. President Barack Obama announced the death of Osama bin Laden. REUTERS/Jason Reed[/caption]

لیکن کیا کریں کہ طاقت کے نشے کا طلسم بہت ہی عجیب ہے۔ اس کیفیت میں خودپسندی کا دور دورہ رہتا ہے تو نرگسیت کا بول بالا ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ میں یروشلم کے معاملے پرووٹنگ ہوئی تو 193 ممالک میں 128 نے کھل کر امریکی فیصلے کی مخالفت کی مگر دنیا بھر میں شرمندگی کے باوجود ٹرمپ اسرائیل کی حمایت میں پیش پیش ہیں اور خود کو قانون، آئین اور دنیا بھر کا ان داتا سمجھ رہا ہے۔

تاریخ عالم پرنظررکھنے والے ٹرمپ گردی کو صرف امریکہ ہی نہیں پوری دنیا کیلئے مہلک قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ سے سپر پاورکا تاج لیکر اپنے سرسجایا، سویت یونین کے ساتھ پھر اسی تاج کے معاملے پرسرد جنگ کی صورت میں ٹکرایا اور جب عالمی دنگل کا ’فاتح پہلوان‘ ٹھہرا تو دنیا کو اپنی چھڑی سے ہانکنے لگا۔۔ مگرٹرمپ کی شدت پسندی، من مانے فیصلے اورمسلم کش اقدامات دیکھ کر اب تو عالمی حالات پر نظر رکھنے والے دانشور بھی کہنے لگے ہیں کہ اس عالمگیر سلطنت کی بالادستی کا خاتمہ شاید زیادہ دور نہیں۔

 

AMERICA

super power

World Power

Tabool ads will show in this div