آخر ہونے کیا جارہا ہے

کیا حالات اس نہج پر پہنچائے جارہے ہیں کہ حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جائےگا یا پھر اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی اور نئے انتخابات کا اعلان کیا جائےگا ؟ کیا کوئی  ٹیکنوکریٹ حکومت بننے جارہی ہے؟ کیا  مارشل لاء لگنے جارہا ہے ؟ آخر ہونے کیا جارہا ہے ؟   یہ وہ سوالات ہیں جو عام آدمی کے زہن میں اُس وقت اُبھرتے ہیں جب عام آدمی ہمارے میڈیا کے مختلف چینلز پر بیٹھے اینکرز،تجزیہ نگاروں کو گفتگو کرتے یا اپنی رائے کا اظہار کرتے دیکھتا ہے۔

وزیراعظم ، وزراء ، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سےکہا جارہا ہے کہ جمہوریت ڈی ریل نہیں ہونے دینگے۔عدلیہ،عسکری سربراہان کی جانب سےبھی متعدد مرتبہ ایسے بیانات سامنے آچکے ہیں کہ وہ جمہوریت کے ساتھ ہیں کوئی غیرآئینی کام نہیں ہوگا۔ لیکن سوال تو یہ ہے کیا ملک میں اس وقت کوئی جمہوری نظام قائم ہے ؟موجودہ حکمرانوں کا کوئی ایک عمل ایسا نہیں جس سے عام آدمی کو یہ تاثر ملے کہ ہاں یہ ایک جمہوری طرزِ حکمرانی ہے۔  کیا اس 9 سالہ جمہوری دور میں ہم نے غیر جمہوری اقدامات  ہوتے نہیں دیکھے ؟

کیا مقامی حکومتوں کا قیام جمہوری جماعتوں کی کاوشوں کا نتیجہ تھا،جمہوریت کی نرسری سمجھا جانے والا مقامی حکومت کا نظام بےاختیار ہونا جمہوری عمل  ہے یا پھر اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہ کرنے والے جمہوری ہوسکتے ہیں ؟ جمہوری سیاسی جماعت کی سرگرمیوں پر غیراعلانیہ پابندی جیسے اقدامات سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملک میں واقعی جمہوریت ہے؟ آج اگر نواز شریف صاحب سول سپرمیسی کی بات کررہے ہیں تو کیا وہ عوام کی محبت یا پھر عوام سے ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کے لیے  آواز بلند کررہے ہیں؟  ہر گز ایسا نہیں ہے۔ملک میں جمہوریت کا پہیہ ضرور چلنا چاہیے لیکن ایسی جمہوریت جو حقیقت میں بھی جمہوری ہو۔

جناب نواز شریف صاحب جب آپ اپنے لیے سول سپرمیسی کا نعرہ لگارہے ہیں تو ساتھ ساتھ آپ کو عوام کے بنیادی حقوق غضب کرنے والوں کے خلاف بھی آواز اُٹھانا چاہیے کہ گزشتہ 70 سالوں سے عام پاکستانی کے ساتھ جو اشرافیہ زیادتی کرتے چلی آرہی ہے اسے اب ختم ہونا چاہیے۔

ہمارے یہاں نہ تو کسی آمر نے عوام کا سوچا تھا اور نہ جمہوریت نےعوام دوست اقدامات کیےہیں توآخر ایسی گفتگو سےعوام کا کیا فائدہ کہ کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت بنائے یا پھر موروثی ، جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام جمہوریت کا لبادہ اُوڑھ کر  قائم رہے۔ دونوں صورتوں میں خون تو عام آدمی کا ہی چوسا جانا ہے۔ ٹیکس کا بوجھ تو عام آدمی کے کاندھوں پر ہی آنا ہے۔  اس ملک میں موروثیت، جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کے چلتے ہوئے نہ تو کبھی کوئی آمر غریب مظلوم عوام کو ریلیف دے سکتا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی جمہوریت عوام دوست اقدام کرسکتی ہے جو آمرانہ رویہ اپنا کر جمہوریت کا راگ آلاپتے رہے۔

لہذا اگر حقیقتاً ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو ملک میں سب سے پہلے جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کو ختم کرکے ایسا نظام قائم کیا جانا چاہیے جس میں تمام قومیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، یکساں حقوق دیے جائیں، ملک و قوم کا پیسہ لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے خواہ کوئی کتنا ہی طاقتور شخص کیوں نہ ہو اُسے قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ورنہ اگر اسی طرح قانون میں غریب امیر،چھوٹے بڑے کا فرق چلتا رہا تو ملک بھلا کیسے ترقی کرسکتا ہے۔

Politics

Tabool ads will show in this div