منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/12/Parveen-Shakir-NAT-26-12.mp4"][/video]

کراچی : سینکڑوں لازوال اشعار کی خالق، پھولوں اور خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کو ہم سے بچھڑے تئیس برس بیت گئے۔

پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں پیدا ہوئیں ان کے والد کا نام شاکر حسین تھا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں ۔ان کا مشہور زمانہ شعر ہے۔

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی، پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

سال انیس سو ستتر میں ان کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا، اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعراء کرام میں ہونے لگا، اپنی اولین کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی پروین کی شاعری ادبی رسالوں کے ذریعے اپنے مداح پیدا کر چکی تھیں۔ خوشبو کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پہلی اشاعت کے چھ ماہ بعد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن چھاپنا پڑا۔

کو بہ کو پھیل گئی بات شنا سائی کی اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی اُس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا رُوح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی

پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا، انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔

چھبیس دسمبر انیس سو چورانوے کو ایک ٹریفک حادثے میں پروین شاکر اپنے مداحوں کو اداس چھوڑ گئیں، لیکن ان کی شاعری کی بھینی بھینی خوشبو آج بھی قارئین ادب کے اذہان معطر کئے ہوئے ہے۔

مر بھی جاوں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

پروین شاکر اردو ادب کا ''ماہ تمام'' ہیں جو ہمیشہ اپنے جمال پر رہے گا۔

 

LITERATURE

Pervin Shakir

Tabool ads will show in this div