دل تو دل ہے

دلِ ناداں تُجھے ہُوا کیا ہے​

آخر اِس درد کی دوا کیا ہے​

چچاغالب کا یہ شکوہ کچھ بلاوجہ بھی نہیں۔ دل ازل سے ناداں ہے اور اچانک وہ کرتا ہے جو کسی کے وہم وگماں میں بھی نہیں ہوتا ۔ دل کو لاکھ سمجھائیں لیکن سنتا اپنی ہے اور جو اس کا من چاہے وہی کرتا ہے، بادشاہ جو ٹھہرا۔دل یہ ناز اور نخرے برداشت کرنے میں بالکل حق بجانب ہے جناب۔چھوٹا سا دل دھڑکتا ہے تو زندگی کی گاڑی چلتی ہے ۔ بھاگتی ہے اور دوڑتی ہے ۔کہیں اس نے تھوڑی سے ادائیں دکھائیں،جان کےلالے پڑجاتےہیں۔

شعراءنےآنکھوں کیلئے غزال یا جھیل کا استعارہ استعمال کیاتوزلفوں کوکبھی بادل توکبھی ناگن سے تشبیہ دی۔دل سے بھی چھیڑ خانی کی۔

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا

چہرے،آنکھیں اور زلفوں کا تعلق تو ظاہری خوبصورتی سے ہے ۔ دل کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے،پھر بھی الفاظ سے کھیلنے والوں نے اسے بھی خوب استعمال کیا ہے۔

دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے

اتنا بے سمت نہ چل، لوٹ کے گھر جانا ہے

تبسم ہے وہ ہونٹوں پر جو دل کا کام کر جائے

انہيں اس کي نہيں پروا، کوئي مرتا ہے، مر جائے

شعراء حضرات نے تو دل سے خوب اٹھکھلیاں کیں ۔ ہمارے سیاستدانوں نے بھی اسے نہ بخشا۔سنگین غداری کیس میں سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کے دل نے کچھ ناراضی دکھائی ۔

مگر زمانے کو دیکھیں ۔ طرح طرح کی باتیں کرتا رہامگر صاحب کیا کریں باتیں تو ہوں گی۔آخر دل کا معاملہ ہے ۔

ادھر پاناما کا قصہ شروع ہوا ۔ اُدھر میاں صاحب کے دل نے بھی شرارتیں شروع کر دیں ۔ لندن میں کئی گھنٹے طویل آپریشن ہوا مگر برا ہو سیاست کا ۔ ان کے سیاسی مخالفین نے ان کی بیماری پر کئی سوالات اٹھا دیئے ۔

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں اعدادوشمار کے ماہر سابق وزیر خزانہ ڈار صاحب نے بھی کورٹ کچہریوں سے جان چھڑٓانے کیلئے دل کا ہی سہارا لیا ۔ رہنما پیپلز پارٹی ڈاکٹر عاصم کرپشن الزامات میں گرفتار ہوئے تو انہیں بھی مشکل وقت میں بیچارا دل ہی یاد آیا ۔

یہ تو ہو گئیں ہلکی پھلی باتیں ۔ اب ذرا اپنا دل تھام کر بیٹھیں ۔

چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں دھڑکن کی رفتار کو موت کے امکانات کی پیشگوئی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن افراد کی دل کی دھڑکن فی منٹ 80 ہوتی ہے ان میں اگلے 20 برسوں میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 45 فیصد تک بڑھ جاتا ہے ۔ دل کی سست دھڑکن کو طبی ماہرین زیادہ صحت مند اور فٹ دل کی علامت قرار دیتے ہیں ۔ دل کی دھڑکن کی رفتار میں فی منٹ 10 کے اضافے سے موت کا خطرہ 9 فیصد جبکہ ہارٹ اٹیک یا فالج کے امکان میں آٹھ فیصد اضافہ ہو جاتا ہے ۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ 18 سے 35 سال کے مردوں میں 56 سے 61 بار دل کا دھڑکنا مناسب ترین ہوتا ہے جبکہ 80 سے اوپر جانا خطرے کی علامت ہو سکتا ہے۔

اسی طرح خواتین میں یہ تعداد 61 سے 65 بہترین ہے جبکہ 83 سے اوپر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ۔

دل کو مضبوط کرنے کا ایک طریقہ ہے۔اگر کسی نےآپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے تو اسے معاف کر دیں ۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ دوسروں کی خطائیں بھول جانے اور درگزر کرنے سے دل مضبوط ہوتا ہے ۔ غصہ تھوک دینے اور دل میں میل نہ رکھنے سے دوران خون میں پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوتیں ۔ ماہرین کے مطابق دوسروں کی غلطیاں معاف نہ کرنے سے تناؤ کی کیفیت جنم لیتی ہے جس سے بلڈپریشر میں اسپائکس بن جاتے ہیں جو آگے چل کر دل کے دورے کا باعث بنتے ہیں ۔

دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں

جانے والی چیز کا غم کیا کریں

دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ ہمنگ برڈ تیزی سے پر کیسے پھڑپھڑاتا ہے ۔ سائسدانوں نے یہ راز بھی تلاش کر لیا ۔ کہتے ہیں اس ننھے پرندے کا دل جسمانی تناسب سے بہت بڑا اور طاقتور ہے ۔ بڑا دل جسم میں زیادہ خون بھیجتا ہے اور اس سے ہمنگ برڈ اپنے پروں کو تیزی سے پھڑپھڑاتا ہے اور کسی ہیلی کاپٹر کی طرح ہوا میں معلق رہتا ہے ۔

دل کی بستی پرانی دلی ہے

جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

HEART

feelings

attachment

bonding

Tabool ads will show in this div