پارلیمانی انتخابات، ترک حکمران جماعت سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکی

ویب ایڈیٹر

انقرہ: ترکی کے پارلیمانی انتخابات میں صدرطیب رجب اردوگان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی بڑی تعداد میں نشستیں جیتنے کے باوجود 13 سال بعد حکومت بنانے کیلئے سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکی۔

اب مخلوط حکومت بنے گی یا الیکشن دوبارہ ہوں گے ترک عوام نے امریکی طرز کے صدارتی نظام کیلئے اصلاحات کی نفی کردی۔

ترکی میں 13 سال بعد پہلی مرتبہ حکمران جماعت پارلیمان میں سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکی۔ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کومجموعی طور پر41 فیصد ووٹ ملے اور وہ پارلیمان 550 میں سے 260 نشستوں پر کامیاب رہی۔ دوہزار گیارہ کے الیکشن میں کامیابی کا تناسب 49 فیصد تھا۔

حریف جماعت ریپبلکن پیپلزپارٹی 25 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی جبکہ کرد جماعت پیپلز ڈیموکریٹک کو 5۔16 فیصد ووٹ پڑے۔ وزیراعظم احمد داؤد اوگلو کہتے ہیں کہ نتائج سے ثابت ہوگیا کہ اے کے پارٹی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اور پارلیمانی نظام کو لاحق ہرخطرے کا مقابلہ کریں گے۔

ترک قوانین کے مطابق حکومت سازی کیلئے 276 نشستوں پر کامیابی درکارہوتی ہے۔ 300 نشستیں حاصل کرنے کی صورت میں طیب اردوگان کی جماعت آئینی ترمیم کیلئے ریفرنڈم کی بھی اہل ہوتی۔ ترک صدر نےاعلان کیا تھا کہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے بعد ملک میں امریکی طرز کا صدارتی نظام نافذ کیاجائے گا تاہم ان کا خواب اس بار پورا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ سماء

Malaysia

anniversary

fms

seize

حاصل

bodybuilding

Tabool ads will show in this div