ون پیج تھیوری

 

جب سے اس ملک میں آنکھ کھولی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سارے اسلوب زندگی کے سیکھے اس ملک میں سیاست کے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے۔ زندگی میں بہت کچھ سیکھا،چشم فلک نےبہت کچھ دیکھا جب باتوں کو سمجھنا شروع کیا توایک بات کو کئی بار بلکہ بار بار سنابلکہ اتنا سنا کہ بات ذہن میں نقش ہوگئی۔ جیساکہ پاکستان انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، تاریخ کے بہت نازک موڑ پر کھڑا ہے، اور ہم سب کو اس نازک اور تاریخ ساز لمحے میں پاکستان کے لیے کچھ کرنا ہے۔

اس بات کے ساتھ جو بات ہمیشہ منسوب کی گئی بلکہ کبھی کبھار تو ایسا گمان ہوتا ہے کہ دونوں باتوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے،وہ یہ ہےکہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے۔ اب یہ بات سمجھنے کی ہے کی اگر فوجی اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہیں تو مسائل ختم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتےکیوں جارہے ہیں؟۔  وہ کون سی ایسی کتاب ہے جس کا صرف ایک ہی بیچ  ہے،کتاب کا مصنف کون ہے؟، جوہر بدلتے وقت کے ساتھ اس ایک صفحے پر اپنی تحریر تبدیل کر دیتا ہے  اوراس بدلتی تحریر کو ہر بار ایک نئے عنوان کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے اور ہماری عوام اس تحریر کردہ الفاظ کہ سحر میں اس قدر گم ہو جاتے ہیں کہ تمام  گزرے ہوئے تکلیف دہ واقعات اور لمحات کو بھول کر اس کتاب کی تشہیر میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

یہاں پر دلچسپ امر یہ ہے  کہ پاکستان کے ان ستر سالوں میں ایک طاقت ایسی ہے جو اس کتاب کو بند کرکے  طاق میں رکھ دیتی ہے جبکہ دوسری طاقت اس کتاب کو صاف ستھرائی کے بعد اوراس کےاندرموجود اس ایک صفحے کودوبارہ سیدھاکرکے عوام کے سامنے پیش کر دیتےہیں۔ ہماری عوام گزشتہ 7دہائیوں سے اس ہی کشمکش میں مبتلا ہےکہ ایسا کون ہےجو صحیح معنوں میں اس قوم کے لئے ایک مسیحا کا کردارادا کرے جو اس ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات اور اس نازک لمحوں کو سمجھے تاکہ ہمارا ملک بھی ترقی کی طرف گامزن ہو۔ آمین۔

ہم نے بہت ساری تھیوریز کو پڑھا اور سمجھا  لیکن آج تک جس تھیوری کا فلسفے کو سمجھنے میں ناکام رہا اس تھیوری کا نام ہے ون پیج تھیوری۔  یہ وہ تھیوری ہے جوہر دور ہرجماعت اور ہر طاقت کیلئے بنی ہے جب جب بھی  کوئی اقتدار میں آیا،اس نےاس تھیوری کابھرپور استعمال کیا۔ابھی فی الحال یہ فیصلہ کرناکہ یہ تھیوری درست ہے یاابھی اس پرمزیدکام ہونا باقی ہے،ذرا مشکل ہے۔آنے والا دور، آنے والی نسل  شاید اس تھیوری کو صحیح طور پر استعمال کرسکیں تاکہ ہماراملک،اس ملک کی جمہوریت، اس کا پارلیمانی نظام اور زیادہ مستحکم ہو اور یہاں بسنے والے 22 کروڑ لوگ زیادہ خوشحال اور آسودہ زندگی گزار سکیں۔

 اس کے ساتھ ساتھ ہم کو اپنی سوچ کے زاویے اور اس کے محور کو بھی تبدیل کرنا ہوگاکیونکہ زیادہ عرصہ کسی ایک تھیوری یا فلسفے کے سات چلنا اس ملک میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے۔آدھاگلاس خالی ہے یا آدھا گلاس بھرا ہوا،ہم کواب اِس سوچ اور اس زاویےسے باہر نکلنا ہے۔کیونکہ اب پاکستان 70 سال کا ہوچکا ہےاوراس پاکستان کو ہماری پہلےسےکہیں زیادہ  ضرورت ہے کیونکہ آج کا پاکستان اگر مستحکم ہوگا تو اندرونی معاملات کے ساتھ بیرونی معاملات، خارجہ پالیسی، دفاع اورہمارےسرحدیں زیادہ محفوظ ہوں گی۔ہمیں اپنی اس روش کوبھی بدلناہوگااورکسی شخص یاادارےکوموردالزام ٹھہرانےکی بجائے ترقی خوشحالی کے لئے کام کرنا ہوگا اوراس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی شخص قانون اور آئین سے بالاتر نہیں اور ہم سب کو آئین کی بالادستی کے لیے کام کرنا ہوگا۔اس ملک اور اس کےجغرافیائی حالات کے پس منظر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اس ملک میں  جب بھی ترقی ہوئی اور ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچے تو درحقیقت جمہوریت کے  مرہون منت ہے۔ جمہوریت جتنی مستحکم ہوگی،ملک اتنی ترقی کرے گا۔