دائرے کا سفر

تحریر: طاہر نصرت

وہی نہ تھمنے والا شور، وہی غوغا، وہی طوفان، وہی القابات و خطابات، وہی انداز اور وہی طریقہ کار۔ لگتا ہے پاکستان کی سیاسی گاڑی کا پہیہ ایک بار پھر پیچھے کی طرف مڑنے لگا ہے۔ ہم ایک بار پھر 1977 کی جانب گامزن ہیں۔ ملکی تاریخ کا شورش زدہ سال، جس کے بطن سے صرف تاریکیوں نے جنم نہیں لیا ملک پر منحوس پر چھائیاں بھی پڑگئیں۔

ہم آج ایک بار پھر عجیب سے دوراہے پر کھڑے مستقبل کی طرف پیٹھ کئے ماضی کو کوسنے اور حال کو بے حال کئے دے رہے ہیں۔ چالیس برس بیت گئے، ہم نے کیا کھویا ؟ کیا پایا؟ سیاسی استحکام کے دعوے اور آنے والا کل، جس کا وعدہ کیا گیا تھا کہ سپیدئ سحر سے ملک کا گوشہ گوشہ تابناک ہوگا۔ مگر یہ کیا ؟ نہ تو وہ کل آیا نہ مشرق کا سینہ چیر کر وہ سورج طلوع ہوا اور نہ ہی اس کی تابناکی سے نظریں خیرہ ہوئیں۔ نرم و گداز تکیے سے ٹیک لگا لیجئے، بے لگام سوچوں کو جست لگانے دیں اور میڈم نورجہاں کی مدھر آواز میں سن لیجئے

لے آئی پھر کہاں پرقسمت ہمیں کہاں سے

یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

چالیس برس پہلے جہاں سے چلے تھے آج پھر اسی مقام پر کھڑے ہیں۔ پاناما کیس کے ہنگامے نے ملک کا سیاسی توازن بگاڑا ہے۔ بڑی عدالت نے سیاست کے بڑے جغادری کو گھر بھیج دیا۔ مگر اس کے آفٹرشاکس اب بھی کم نہیں ہورہے۔ کرپشن کے الزامات اور نااہلی کے داغ کی صورت میں اپوزیشن کو تو ایسی چھڑی ہاتھ آئی ہے جس سے اب آئندہ جنرل الیکشن تک سرکار کو ہانکتی رہے گی۔

چالیس برس قبل جب متحدہ اپوزیشن (پاکستان قومی اتحاد) نے اسی وقت کی سرکار کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو ذوالفقارعلی بھٹو بھی اپنے حریفوں کو سبق سکھانے پر تلے تھے۔ معاملہ حساس سے حساس تر ہوتا گیا مگر لچک کسی نے نہیں دکھائی اور پھر یوں ہوا کہ آسمانی طاقتیں روٹھ گئیں تو وقت کا دھارا الٹی سمت بہنے لگا۔ اسی وقت کے سپہ سالار جنرل ضیاء الحق نے حکومت کا دھڑن تختہ کیا اور خود اقتدار کے سنگھاسن پر آبیٹھے۔ اپوزیشن کے غبارے سے ہوا تو نکلی ہی ہاتھ بھی کچھ نہ آیا۔

آجکل ایک بار پھر متحدہ اپوزیشن محاذ کیلئے کچھ سیاسی رہنما سرگرم عمل ہیں مگر فی الحال یہ اتحاد بعید از قیاس ہے۔ ماڈل ٹاون سانحے کی رپورٹ عام ہوچکی ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری بھی باقاعدہ اپنے مورچے سے ن لیگی سرکار پرگولہ باری کررہے ہیں۔ آصف علی زرداری، شیخ رشید، چوہدری برادران سمیت کچھ سیاسی رہنما تو باقاعدہ ان کے ارد گرد جمع بھی ہورہے ہیں جبکہ ڈاکٹر صاحب تو یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ جب وہ چاہیں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کو اپنے دائیں بائیں کھڑا کرکے معجزہ رونما کرسکتے ہیں۔

ویسے تو سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں مگر حقائق دیکھ کر ایسا لگتا نہیں کہ جیالے اور کپتان ایک گھاٹ سے پانی پینے پر راضی ہوجائیں گے۔ کیونکہ جب گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟ البتہ دونوں جماعتوں میں ایک قدر مشترک ہے۔ دونوں جماعتیں وقت سے پہلے انتخابات کرانے پر متفق ہیں۔ دونوں جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ سینیٹ الیکشن سے پہلے پہلے اس حکومت کو چلتا کیا جائے ۔۔ مگر کیسے؟ حکومت نے حلقہ بندیوں کا بل تیزی سے قومی اسمبلی سے منظور کیا مگر سینیٹ میں لٹک گیا۔ مردم شماری کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے تحفظات نے حلقہ بندیوں کے گرما گرم معاملے کو بھی سردخانے میں ڈال رکھا ہے۔ اب انتخابات یا تو ہونگے نہیں جب تک کہ قانونی پیچیدگیاں دورنہ ہوں یا پھر وہی پرانی مردم شماری کی بنیاد پرنیا چناؤ ہوگا۔۔ مگر ایسا ہونا بھی آسان دکھائی نہیں دے رہا۔

دائیں بازو کی جماعتیں بھی میدان میں اتری ہیں اس امید کے ساتھ کہ ایک بار پھر مذہبی جماعتوں کا اشتراک، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) بنے گا اور ایک ہی پلیٹ فارم اور ایک ہی انتخابی نشان سے الیکشن لڑے گا۔ مولانا سمیع الحق کا وزن اگرچہ کپتان کے پلڑے میں پڑ چکا ہے مگر ابھی کافی جماعتیں ہیں جن کا فیصلہ آنا باقی ہے۔

سیاسی پنڈت موجودہ صورتحال کو کافی تشویشناک قرار دے رہے ہیں حلقہ بندیوں سمیت فاٹا اصلاحات کا معاملہ کھٹائی میں پڑچکا ہے۔ جس پر جماعت اسلامی نے بھی جنگ کا بگل بجا دیا ہے۔غیریقینی صورتحال نے ملک کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ وزراء تک کو بھی یقین نہیں کہ یہ اسمبلی مدت پوری کرپائے گی یا نہیں۔ نااہلی کیس میں گوکہ کپتان بچ گئے مگر ان کے اہم کھلاڑی کی وکٹ اڑ گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے عمران خان کو افسردہ کر دیا ہے تو انہیں ایک نئی جان بھی بخش دی ہے۔

سیاسی ہلچل عروج پر ہے۔ ماحول تپش زدہ ہے۔ لہو گرمانے کی مشقیں بھی جاری ہیں۔ اس الارمنگ صورتحال سے کیسے نکلا جائے؟ فی الحال یہ واضح نہیں۔۔ دسمبر کی ٹھنڈی ٹھار رت میں نرم گداز تکیے سے ٹیک لگا لیجئے اور میڈم جی کی کانوں میں رس گھولتی آواز سے دل بہلا لیجئے۔

مجبور کر رہی ہے، پھر گردش زمانہ ۔۔ ہم چھیڑ دیں وہیں سے، گزرا ہوا فسانہ، لیکن کوئی بتا دے، بھولے تھے ہم کہاں سے ۔۔ کیونکہ ۔۔ یہ تو وہی جگہ ہےگزرے تھے ہم جہاں سے۔۔ !!

PTI

Politics

RELIGIOUS

Tabool ads will show in this div