ہنگوسکھ برداری کا اسسٹنٹ کمشنر پر تبدیلی مذہب کیلئے دباؤ کا الزام

ہنگو : ڈسٹرکٹ ہنگو کے علاقے دوآبہ سے تعلق رکھنے والی سکھ برداری نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹھل کے اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے ان پر دباؤٴ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہو جائیں۔

ذرائع کے مطابق دوآبہ بازار میں جاری تجاوازت کے خلاف آپریشن سے پریشان مسلمان اور سکھ برداری اپنی فریاد لے کر اسسٹنٹ کمشنر ٹھل کے پاس پہنچے اور آپریشن کچھ روز کیلئے مؤخر کرنے کی التجا کی، جس پر سکھ برداری کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران اسسٹنٹ کمشنر ان کی کوئی بات نہ سنی اور بے رخی سے پیش آئے اور بعد ازاں انہیں غیر مسلم( کافر) بولا اور کہا کہ جب تک تم مسلمان نہیں ہوگے، کوئی مدد نہیں کی جاسکے گی۔

اسسٹںت کمشنر کی بات پر سکھ دکان دار غصے میں آگئے اور اپنی فریاد اور اسسٹنٹ کمشنر کی شکایت کرنے ڈپٹی کمشنر شاہد محمود کے آفس پہنچے، جس پر ڈپٹی کمشنر نے سکھ برداری کو یقین دلایا کہ وہ واقعہ کی مکمل جامع تحقیقات کراکے حقائق منظر عام پر لائیں گے۔

سماء ڈاٹ کام سے خصوصی گفت گو میں ڈپٹی کشمنر شاہد محمود کا کہنا تھا کہ "میں بحیثیت حکومتی نمائندے اس بات کا پابند ہوں کہ علاقے میں کسی بھی مذہب یا فرقے کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہو، حکومت بھی اس بات پر سختی سے کاربند ہے کہ ہر مذہب اور فرقے کو اپنی روایت کے مطابق مذہبی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہے

سکھ برداری کی جانب سے دائر شکایت پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ "واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں، جب کہ اسسٹنٹ کمشنر سے واقعہ سے متعلق جب جواب طلب کیا گیا تو اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملاقات میں کوئی ایسی بات نہیں، اور گر انہیں ایسا لگا ہے تو وہ اس پر سکھ برداری کے پاس جا کر معافی مانگنے کو تیار ہیں

جمعہ کی شام ہونے والے اس واقعہ کے بعد اسسٹنٹ کمشنر ٹھل کے بیان کے خلاف سکھ برداری کی جانب سے دوآبہ بازار اور دیگر علاقوں میں احتجاج بھی کیا گیا۔ اس موقع پر سماء ڈاٹ کام سے خصوصی گفت گو میں سکھ دکان دار کا کہنا تھا کہ "مختلف جانب سے ان پر مذہب تبدیل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تاہم ڈپٹی کمشنر نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ اس مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا"۔ سماء

KPK

deputy commissioner

SIKH COMMUNITY

Assistant Commissioner

Thall

Tabool ads will show in this div