کوٹ رادھا کشن سانحہ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت آج ہوگی

ویب ایڈیٹر :


اسلام آباد   :   کوٹ رادھا کشن واقعہ پر از خود نوٹس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوگی، آج ہونے والی سماعت میں گرفتار سے متعلق جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ آج کیس کی سماعت کرے گا، بینچ میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مشیر عالم شامل ہیں، آج ہونے والی سماعت میں گرفتار ملوث افراد سے متعلق جمع کرائی گئی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا، رپورٹ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے جمع کرائی گئی، قصور کے سپریٹنڈنٹ پولیس کی جانب سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان میں سے متعدد افراد ایف آئی آر میں نامزد ہیں، جب کہ دیگر ملزمان کو عینی شاہدین کی جانب سے دیئے گئے بیانات کی روشنی میں شناخت کے بعد گرفتار کیا گیا۔

مطلوبہ انکوائری رپورٹ چیف جسٹس ناصر الملک کے احکامات پر تیار کی گئی، جنہوں نے 10 نومبر کو واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت اور پروونشل پولیس افسر سے تحقیقات کی صورتحال طلب کی تھیں۔ ڈی پی او کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سجاد مسیح اور صائمہ مسیح کو پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں اینٹوں کے جلتے بھٹے میں پھینکا گیا۔ وہاں موجود ہجوم نے پولیس اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق واقعہ کی ایف آئی آر میں 53افراد کو نامزد کیا گیا، جب کہ 39ملزمان جوڈیشل ریمانڈ اور 4 ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر جیل منتقل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ واقعہ کی تحقیقاتی کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی، رپورٹ کے مطابق ملزمان اشتعال دلانے، مذہبی جذبات بھڑکانے اور سجاد مسیح اور ان کی حاملہ بیوی ثمینہ پر تشدد میں ملوث ہیں،پانچ رکنی ٹیم نے ایس پی عباس کی قیادت میں تحقیقات مکمل کیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کھیتولک بشپس کانفرنس اور میجر سپیرئرز لیڈر شپ کانفرنس پہلے ہی چیف جسٹس سے مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے اشتعال دلانے والے عالموں کے احتساب کی تحریری درخواست کر چکی ہے۔

 

پس منظر :
واضح رہے کہ قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن میں بھٹے کے مالک نے اہل علاقہ کے ہمراہ مسیحی میاں اور اس کی حاملہ بیوی کو معمولی تنازعہ پر بھٹے میں زندہ جلا کر مار ڈالا تھا، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے واقعہ پر فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی، جب کہ چیف جسٹس کی جانب سے بھی انسانیت سوز واقعہ پر سوموٹو ایکشن لیا گیا۔

اقلیتی مؤقف:

دوسری جانب، اقلیتوں کے حقوق سے متعلق 19 جون کے سپریم کورٹ آرڈر پر پنجاب حکومت نے بھی ایک رپورٹ جمع کرائی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ خفیہ معلومات اکھٹی کرنے اور اقلیتوں کی سیکورٹی یقینی بنانے کیلئے سخت احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا یہی تین رکنی بینچ اپنے 19 جون کے فیصلہ پر عمل درآمد سے متعلق معاملہ کی سماعت کرے گا۔ سماء

کی

کے

کیس

آج

conflict

saturday

guinea

modi

Tabool ads will show in this div