حدیببہ پیپرملز، سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ دے دیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے حدیببہ پیپرملز دوبارہ کھولنے کی نیب کی اپیل مسترد کردی۔ تین رکنی ججز کے بینچ نے متفقہ طور پر نیب کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو حتمی قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حدیببہ پیپرملز دوبارہ کھولنے کی نیب کی اپیل مسترد کردی۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کھولنے سے متعلق نیب کی اپیل کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل تھے۔

دوران سماعت نیب کے وکیل نے استدعا کی کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں خلا ہے ،انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ریفرنس کھولنے کی اجازت دی جائے۔ جسٹس مشیر عالم نےریمارکس دیے ہم ریفرنس نہیں اپیل سن رہے ہیں ،آپ اپیل دائر کرنے میں تاخیر پر عدالت کو مطمئن کریں،اسحاق ڈار کو نیب نے فریق ہی نہیں بنایا، اگر اسحاق ڈار کے بیان کونکال دیاجائے توان کی حیثیت ملزم کی ہوگی۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیے کہ جس بیان پر آپ کیس چلا رہے ہیں وہ دستاویز لگائی ہی نہیں۔ عدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ اپیل دائر کرنے میں تاخیر پر عدالت کو مطمئن کریں، آپ جس بیان پر کیس چلا رہے ہیں وہ دستاویز لگائی ہی نہیں، اسحاق ڈار کے بیان کونکال دیا جائے تو ان کی حیثیت ملزم کی ہوگی۔

نیب وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہائی کورٹ کے فیصلے میں خلا ہے، ریفرنس کھولنے کی اجازت دی جائے، جس پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ ریفرنس نہیں اپیل سن رہے ہیں، ہمیں تاخیر پر مطمئن کریں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ملزم پر فرد جرم کب عائد کی گئی؟۔ نیب وکیل عمران الحق نے کہا ملزم کے نہ ہونے کے باعث فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا سالوں کیس چلا اور فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔

خیال رہے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے حدیببہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے کیلئے نیب کی اپیل پر بینچ تشکیل دیا تھا۔ جس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل شامل تھے۔ لاہور ہائیکورٹ نے شریف برادران کیخلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس خارج کر دیا تھا۔ نیب نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ریفرنس دوبارہ کھولنے کی اجازت طلب کر رکھی ہے۔ نیب نے پاناما کیس میں پانچ رکنی بینچ کی آبزرویشن پر اپیل دائر کی تھی۔

واضح رہے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اکتوبر 2011 میں نیب کو اس ریفرینس پر مزید کارروائی سے روک دیا تھا۔ حدیبیہ ریفرنس مشرف دور میں سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں انہوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔ اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباؤ میں آ کر دیا تھا۔ سماء

corruption Cases

hudaibiya paper mills

hudaibiya paper mill

reopening case

Tabool ads will show in this div