اچھے برے طالبان کی تفریق کیے بغیر سب کیخلاف بلاامتیارکارروائی کا فیصلہ

Nov 30, -0001

ویب ایڈیٹر :

 

پشاور : وزیراعظم کے ہمنوا ہو کر تمام قومی ، پارلیمانی ، سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنا فیصلہ دیا ہے کہ اچھے برے طالبان کے درمیان بلا تفریق کیے تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی، ہمارے عزم اور حوصلے اب بھی جواں ہے، دہشت گرد اپنی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمیں خوف زدہ نہیں کرسکتے۔

 

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے زیر صدارت اہم پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس پشاور میں ہوا،  اجلاس میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں، گورنر، وزیراعلیٰ اور دیگر حکام نے شرکت کی، اجلاس سے قبل وزیر اعظم نے سزائے موت پانے والے دہشتگردوں‌ کو سزائے موت دینے کی منظوری دیدی.

 

پارلیمانی جماعتوں‌ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج قوم ایک بدترین سانحے سے گزر رہی ہے.ہم نے اپنی حکومت سنبھالنے کے بعد دہشتگردی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اے پی سی بلائی جس میں‌ فیصلہ ہوا کہ معاملہ مذاکرات سے حل کیا جائے جس کے بعد اس کا آغاز کیا گیا لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں‌ ہو سکی جس کے بعد ان کیخلاف فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا جس میں پاک فوج نے نمایاں‌ کامیابی حاصل کی۔

 

پارلیمانی اجلاس کے دوسرے سیشن میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کا اجلاس اس  نتیجے پر پہنچا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یہ جنگ ہماری جنگ ہے اور ا س ے نمٹنے  کیلئے موثر اور فوری پلان  تیار کر کے اس پر فوری عمل درآمد کیا جائے، آج کے اجلاس میں اس بات پر مکمل اتفاق کیا گیا  کہ ضرب عضب میں مسلح افواج نے لازوال قربانیاں دیں جس سے دہشت گردوں  کے لاتعداد ٹھکانے اور نیٹ ورک تباہ اور برباد  ہوئے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ ہم  سمجھتے  ہیں  کہ پشاور میں برپا  ہونے والے الناک اور  بدترین سانحہ بھاگتے دہشت گردوں  کی بزدلانہ کارروائی ہے جس سے ہمارے عزم  اور حوصلے میں کوئی ڈرار  نہیں ڈالی جا سکی،۔ وزیراعظم نے اجلاس کے پلیٹ فارم سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات کا  پختہ اعلان کرتے ہیں کہ اب  اچھے اور برے طالبان کے درمیان کوئی تمیز نہیں رکھی جائےاور ان کے خلاف بلا تفریق  کارروائی ہوگی، وزیراعظم نے پختہ اور اٹل الفاظ میں اعلان کیا کہ ب کہ ایک بھی دہشت گرد اس پاک سرزمین پر موجود ہے، جب تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

 

اس اجلاس میں سب کو ایک پلیٹ  فراہم کیا گیا، اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک نئے مکینزیم سے متعلق سب نے اتفاق کیا ہے، اس اجلاس سے دہشت گردی کے خلاف  لائحہ عمل  تیار کرتے کا موقع ملا، اجلاس میں مکمل اتفاق رائے سے  فیصلہ کیا گیا  کہ تمام پارلیمانی  اور سیاسی جماعتوں  کے اراکین پر  مشتمل  چوہدری نثار علی خان کی قیادت میں 7 دن کے اندر نیشنل ایکشن پلان تیار کرے گے، ہر جماعت سے ایک ایک نمائندہ اس  کمیٹی کا  ممبر ہوگا، مسلح افواج ، انٹیلی جنس  کے نمائندے بھی اس میں شریک  ہونگے، یہ کمیٹی ایک  ماہ میں اس پلان کو قومی قیادت کے سامنے  پیش کرے گی۔ جس کے بعد قومی قیادت ایکشن پلان سے متعلق منظوری دے گی، جسے قوم کے سامنے پیش کیا جائے گا، قومی قیادت میں سیاسی ،قومی اور عسکری قیادت کی مشترکہ حمایت شامل ہوگی۔

 

اس سے قبل پہلے سیشن میں اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کل کے سانحے کے بعد دہشت گردوں کیخلاف جہاد میں پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں، دہشتگردوں کیخلاف سخت فیصلے نہیں ہونگے، فوج نے دہشتگردوں کا کمانڈ کنٹرول سسٹم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ،دہشتگردی سے نجات کی خاطر فوج کی قربانیوں کو سراہتے ہیں۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اس سلسلے میں کافی سفر طے کر لیا ہے تھوڑا باقی ہے لیکن سانحہ پشاور کو کبھی فراموش نہیں‌ کیا جا سکتا، انہوںنے افغان صدر سے اپنی ملاقات کا بھی ذکر کیا کہ افغان صدر نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی، اجلاس کے دوران سانحہ پشاور کے شہدا کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی، اجلاس سے قبل ترجمان وزیر اعظم نے بتایا اب دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے دہشت گردوں کو اب سزائے موت دی جا سکے گی۔

 

وزیراعظم نے مزید کہا کہ آپریشن جب منطقی انجام کو پہنچے گا تو ملک میں دائمی امن قائم ہوگا،نہیں چاہتے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دی جانےوالی قربانیاں رائیگاں جائیں ۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ،عمران خان سمیت تمام جماعتوں کی سیاسی قیادت نے شرکت کی ۔ اس موقع پر سانحہ پشاور کے شہداء کیلئے دعائے مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔ سماء

کی

کا

فیصلہ

کیخلاف

Tabool ads will show in this div