انسانی اسمگلنگ، مجبوریاں بمقابلہ پیسہ

OLYMPUS DIGITAL CAMERA
OLYMPUS DIGITAL CAMERA

ہمارے ملک میں انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں انسانی زندگیوں کا ضیائع نئی بات نہیں، تاہم ہر بار طریقہ واردات اکثر واقعات میں مختلف نکلا ہے، کبھی اچھی جاب، تو کبھی اچھے پیسوں کی لالچ میں یہ انسانی اسمگلر انسانیت بیچ اور زندگی تباہ کر ڈالتے ہیں۔ ان فریبیوں اور سفاک کارندوں کے ہاتھوں اکثر لوگ موت کی وادی تو اکثر لوگ جیتے جاتے مر جاتے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ میں مردوں اور عورتوں کی شرح کا اندازہ لگانا ہو تو اس کیلئے کوئی مخصوص طریقہ کار یا ضابطہ ہی نہیں۔ تاہم ایک اندازے کے مطابق مردوں سے زیادہ خواتین اس جہنم کی نذر ہوتی ہیں، کچھ اپنی مجبوریوں اور ضررتوں کے باعث تو کبھی جبراٍ اس بھٹی میں جلا دی جاتی ہیں۔

انسانی اسمگلر اندورون اور بیرون ملک لوگوں کو اچھے مستقبل کے جھانسے اور پیسوں کا لالچ دے کر منزل سے پہلے ہی ان کی منزل گل کردیتے ہیں۔ گزشتہ ماہ بلوچستان کے علاقے تربت میں ہونے والا واقعہ ہی لے لیں۔ جہاں انسانی اسمگلروں نے 19 جیت جاگتے زندہ انسانوں کو اپنی حواس اور لالچ کے باعث موت کے گھاٹ اتار دیا، اس پر ستم بالا ستم یہ کہ مرنے والوں میں پانچ بیسٹ فرینڈز بھی شامل تھے، جنہوں کی موت کی وادی کی جانب ایک ساتھ سفر کا آغاز کیا، اس بات سے کجا کہ انجام کتنا بھیانک ہوگا۔ انسانی اسمگلنگ میں جہاں مردوں کا استحصال ہوتا ہے، وہی عورتوں کے اوپر بیتنے والے مظالم بھی کسی طور کم نہیں، مجبور عورتوں کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ ایجنٹز اکثر اوقات نوکریوں کے بہانے خواتین کو دیگر ایجنٹس کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں، جو انہیں جسم فروشی جیسے گھناؤنے دھندے یا پھر جبری اجرت یا گھروں میں کام کرنے والی مائیوں کے طور پر ٹھیکے پر چڑھا دیتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بڑے پیمانے پر جسم فروشی کے دھندے میں ملوث تعداد ان خواتین کی ہیں، جو باعث مجبوری اس گندگی میں پھنسی، جہاں وہ نہ جیتی ہیں نہ مرتی ہیں، بلکہ دن میں کئی کئی بار سولی پر چڑھتی ہیں۔ انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں رسوا ہونے والوں میں ایک بڑی تعداد ان کم سن اور کم عمر گھریلو ملازماؤں کی بھی ہے، جو خود یا اپنے گھر والوں کے ذریعے ان ایجنسیز یا ایجنٹس کو بیچ دی جاتی ہیں۔ پنجاب اور بلوچستان اور اندرون سندھ کے علاقے اس وحشی، درندہ صفت انسانی اسمگلروں کیلئے جنت تصور کیے جاتے ہیں۔

جہاں ہم بلوچستان کو کراس بارڈر انٹیلی جنس ایجنسیوں کا مرکز قرار دیتے ہیں، وہی پاکستانی صوبہ بلوچستان انسانی اسمگلروں کیلئے ایک ٹرانزٹ پوائنٹ سے کم نہیں جہاں کے بارڈر ایریا سے وہ خود تو نکل جاتے ہیں، تاہم خواب دیکھنے والی دیگر آنکھوں کو ہمیشہ کیلئے موند دیتے ہیں۔ خوش قسمتی یا بد قسمتی کہیں کہ بلوچستان کا بارڈر اومان، ایران، افغانستان اور اس سے آگے مشرق وسطی تک باآسانی رسائی کا ذریعہ ہے۔ اکثر انسانی اسمگلر لوگوں کو ایران اور پھر ایران کے راستے ترکی اور یورپ تک بھی لے کر جاتے ہیں۔

ایران کا طویل بارڈر،سب سے بڑا چور رستہ بن چکا ہے جہاں یورب جانے کیلئے ایران اور پھر ترکی کے راستے کنٹینرز اور کشتیوں کے ذریعے یورپی ممالک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایرانی سرحد خاص کر ایرانی شہر تفتان غیرقانونی طور داخلے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یہاں سے اکثر و بیشتر ایرانی سیکیورٹی فورسز، انسانی اسمگلرز میں پھنسے لوگوں کو نکال کر پاکستانی لیویز کے حوالے کردیتے ہیں۔ ایسے واقعات ہر روز پیش آتے ہیں اور اب تک انگنت افراد کو تفتان سے گرفتار کرکے لیویز کے حوالے کیا جاچکا ہے۔ غیرقانونی طورپرایران میں داخل ہونے کی اصل وجوہات یہ ہیں کہ انسانی اسمگلرز لوگوں کو ایران سے ترکی اور پھر یونان کے راستے یورپی ممالک بھیج دیتے ہیں اور اس کام کے لئے وہ لاکھوں روپے کماتے ہیں۔

پاکستان میں انسانی اسمگلرز بھی ملک کے لئے مسلسل درد سر بنے ہوئے ہیں ۔ بیشتر بے روزگار افراد اسمگلرز کا آسان ہدف ہوتے ہیں کیوں کہ انہیں بیرون ملک جاکر کمانے، دولت جمع کرنے اور جائیداد بنانے کے سنہری خواب دکھائے جاتے ہیں۔ کبھی پاسپورٹ دفاتر کے باہر دھول مٹی اور دھوپ میں کھڑے لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھیں تو لگتا ہے کہ یہ ایک منظم قوم کے وہ باشندے ہیں،جو بیرون ملک جانے کیلئے ہر قانونی چارہ جوئی پوری کرنا اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں، تاہم اس کے برعکس روشن مستقبل اور معاشی بہتری کے سہانے خواب آنکھوں میں سجائے بیرون ملک جانے کے خواہشمند نوجوان اکثر ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں،جو انھیں بھاری رقم کے عوض بہتر مستقبل کا خواب دکھا کر بیرون ملک بجھوانے کا جھانسہ دے کراپنے جال میں پھنسالیتے ہیں۔

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

اگر کوئی ایسا ہی شاطر وزٹ ویزہ پر دبئی چلا جاتا ہے وہ واپس آتے ہی سب کو بیرون ملک بجھوانے کا دھندہ شروع کر دیتاہے۔ ورک پرمٹ پر بیرون ملک جانے والے افراد کی اکثریت دیہات اور قصبوں سے ہوتی ہے اور دیہاتی لوگ اپنی محدود سوچ اور سادگی کی وجہ سے شہر میں کسی رجسٹرڈ ادارے کی بجائے علاقے کے افراد کے ذریعے جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سابق برٹش ہائی کمشنر کے مطابق ویزوں کے نام پر ہونے والے فراڈ میں پاکستان کا نام نمایاں ہے اسی لیے برطانوی ویزہ کیلئے آنے والی ہر درخواست کو تسلی سے چیک کیا جاتا ہے۔ دیگر مما لک میں بھی پاکستانیوں کیلئے ویزہ کا حصول مشکل سے مشکل ترہوتا جا رہا ہے۔

ایسے فراڈ، جعل سازوں اور ایجنٹز کو روکنے کیلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملک کے اندر ہی ایسے مواقع پیدا کرے، کہ ہماری نوجوان نسل ملک اور اپنوں سے دور نامناسب حالات اور کٹھن زندگی گزارے بغیر ہی عزت اور سکون سے پیسے کما سکیں۔ سما

توانائی

CHILD

women

SEXUAL

ABUSE

30 humans

Tabool ads will show in this div