حدیبیہ پیپر ملز کیس، کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کی جائے

اسلام آباد : حدیبیہ پیپر ملز کیس کی سماعت کا آغاز آج سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہوگیا ہے، جب کہ نیب نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں نئے پروسیکیوٹر کی تقرری تک سماعت ملتوی کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکیستان میں حدیبیہ پیپر ملز کیس کی سماعت کا آغاز آج 11 دسمبر سے ہوگیا، سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ بینچ میں جسٹس مشیر عالم، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان، لاہور ہائی کورٹ کے سال 2014 کے فیصلے کے خلاف نیب کی درخواست پر سماعت کر رہے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیب کی سپریم کورٹ سے درخواست کہ حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں نئے پروسیکیوٹر کی تقرری تک سماعت ملتوی کی جائے، جس پر سپریم کورٹ کی جانب سے سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔

آج ہونے والی سماعت میں عدالت نے نیب کی التواء کی درخواست مسترد کردی۔ جسٹس مشیرعالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس بنیاد پر آپ سماعت ملتوی کرانا چاہتے ہیں یہ کوئی نقطہ نہیں،جسٹس فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، ہمارے لیے ہر کیس ہائی پروفائل ہے،عدالت کا مذاق نہ اڑائیں، اگرنیب سےکوئی لاء افسرپیش نہیں ہوسکتاتوپھراستعفیٰ دےدیں

اس کے بعد جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ التواء کی درخواست کی ہدایت کس نےکی؟، جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب کا کہنا تھا کہ فیصلہ چیئرمین نیب کی زیرصدارت اجلاس میں ہوا، عمران الحق نے کہا کہ پراسیکیوٹرجنرل کےنام کی سمری بھیجی ہوئی ہے، جس پر جسٹس فائز نے برجستہ اور دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ چیئرمین نیب کوبلاکرپوچھ لیں، کیس ملتوی نہیں ہوگا، کچھ دیربعداس کیس کی سماعت کریں گے، جسٹس عالم نے کہا کہ کچھ دیربعداس کیس کی سماعت کریں گے۔ اس پر نیپ کی جانب سے پیش ہونے والے افسر نے تائید کرتے ہوئے کہا مناسب ہوگااس ہائی پروفائلزکیس میں چیئرمین نیب خودپیش ہوں۔ سماء

corruption Cases

hudaibiya paper mill

lahore high courtr

reopening case

Tabool ads will show in this div