انسداد دہشت گردی قومی ایکشن پلان کمیٹی کا اجلاس، ورکنگ گروپ بنادیا گیا

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : انسداد دہشت گردی قومی ایکشن پلان کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، چوہدری نثار کہتے ہیں فوجی اور سول ماہرین پر مشتمل کاؤنٹر ٹیرر ازم ورکنگ گروپ بنادیا گیا جو اپنی سفارشات کمیٹی کو پیش کرے گا۔ رحمان ملک نے افغانستان سے فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کرنے کی تجویز دے دی۔

وفاقی وزیر داخلہ کی زیرصدارت اجلاس انسداد دہشت گردی قومی ایکشن پلان کمیٹی کا اجلاس 5 گھنٹے جاری رہا، چوہدری نثار کہتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی ورکنگ گروپ بنادیا گیا ہے، گروپ اپنی سفارشات کمیٹی کو پیش کرے گا، ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس اتوار کو جبکہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس پیر کو ہوگا۔

اجلاس میں شیریں مزاری، بابر غوری، فاروق ستار، سینیٹر صالح شاہ، اکرم درانی، افراسیاب خٹک، کلثوم پروین اور عبدالرحیم مندوخیل شریک ہیں، وزیراعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ، عارف علوی، رحمان ملک، سیکریٹری داخلہ شاہد خان، کوآرڈینیٹر نیکٹا حامد علی خان، اعجاز الحق، انیسہ زیب، سردار کمال خان بھی شریک ہوئے۔

چوہدری نثار علی خان نے اجلاس میں کہا کہ کاؤنٹر ٹیرر ازم ورکنگ گروپ بنایا جائے گا، جس میں فوج، خفیہ اداروں اور سویلین سے انسداد دہشتگردی کے ماہرین شامل ہوں گے، حکومت، فوج اور سیاسی قیادت کی رائے سے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی، جی ایچ کیو میں ہونیوالے اجلاس کی سفارشات بھی کمیٹی میں پیش کی جائیں گی، ان کا کہنا تھا کہ اُمید ہے کمیٹی ایک ہفتے میں کام مکمل کر لے گی۔

رحمان ملک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ قوم کے 150 بچے شہید کرکے فضل اللہ افغانستان میں بیٹھ کر مبارکبادیں وصول کررہا ہے، حکومت کو افغانستان سے فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کرنا چاہئے، چوڑیاں نہیں پہن رکھیں جوابی کارروائی کرسکتے ہیں۔ سماء

جاری

jundullah

اجلاس

گروپ

resolve

Tabool ads will show in this div