سانحہ حویلیاں کو ایک برس بیت گیا مگر کئی سوالات تاحال جواب طلب ہیں

Dec 06, 2017
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/12/PK-661-Investigation-Isb-Pkg-06-12.mp4"][/video]

اسلام آباد: سانحہ حویلیاں کو ایک برس بیت گیا مگر طیارہ حادثے کی تحقیقات مکمل نہیں ہوسکیں، جہاز کیوں گرا ؟ فنی خرابی تھی یا انسانی غلطی؟ کئی سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔

سات دسمبر دو ہزار سولہ غم کی چادر اوڑھے سسکتی شام جب پی آئی اے کی پرواز ڈبل سکس ون کو حویلیاں کے قریب بدقسمتی نے آ لیا۔ موت کی طرف بڑھتے پائلٹ نے آخری بار کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیا انجن فیل ہونے کی اطلاع دی اور پھر ، دکھ کے سائے گِھر آئے۔

سانحہ کو پیش آئے ایک سال گزر گیا لیکن حادثہ کیسے پیش آیا؟ کیوں پیش آیا؟ طیارے میں کوئی خرابی تھی تو فٹنس سرٹیفیکیٹ کس نے دیا تھا؟ بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کے جواب نہیں ملے، تفتیش کے گھوڑے دوڑانے والے ابھی تک منزل سے بہت دور نظر آتے ہیں۔

گروپ کیپٹن ریٹائرڈ سلطان محمود حالی کے مطابق فضائی حادثے کی تحقیقات میں بلیک باکس کا ڈیٹا کو ڈی کوڈ کرنے کی پاکستان میں سہولت نہیں ہے۔ یہ سہولت فرانس یا اٹلی میں دستیاب ہے۔ اور اس کام میں طویل وقت درکار ہو تا ہے۔

اس اہم معاملے پر سول ایوی ایشن حکام نے بھی منہ پر تالے لگا رکھے ہیں، سماء نے بار بار جاننے کی کوشش کی مگر انتظامیہ موقف دینے کو تیار ہی نہیں

اندر کی خبر رکھنے والے کہتے ہیں کہ حادثے کی تحقیقات میں جہازکے بائیں طرف لگے انجن کی خرابی کی تصدیق ہوئی ہے جس کے باعث جہاز کا الیکٹریکل سسٹم جزوی طور پر ناکارہ ہوگیا، ٹرانسپونڈر نے کام کرنا چھوڑ دیا تو ریڈار سے بھی ناطہ ٹوٹ گیا۔

ذرائع کے مطابق جہاز روٹ سے ہٹا تو کھلی فضا میں ڈولتا رہا اور جلد ہی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، حکام کے مطابق حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ آئندہ سال اپریل میں جاری کی جائے گی۔ سماء

PK 661

Tabool ads will show in this div