اسلام آباد دھرنا کیس: ہائیکورٹ کے حکومت کو 2 آپشن

Dec 04, 2017
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/12/IHC-Dharna-Case-2100-Isb-Pkg-04-12.mp4"][/video]

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس ميں حکومت کو دو آپشنز دے دیئے ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیض آباد دھرنا سے متعلق کیس کی سماعت میں اسلام آباد انتظامیہ اور آئی بی کی رپورٹ پیش کردی گئیں، عدالت نے حکومت کو دو آپشنز دیتے ہوئے قرار دیا کہ دھرنا قائدین کے ساتھ کیا گیا معاہدہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرے یا اعلیٰ سطح کے اجلاس میں معاہدے کی قانونی حثیت واضح کی جائے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ریاست نے دھرنا قائدین کے آگے سرنڈر کیا، یہ معاہدہ نہیں، ایک طرف کے مطالبات ہیں جس پر حکومت نے دستخط کیے، جس پولیس کو مارا گیا کیا وہ ریاست کا حصہ نہیں؟ مقدمات کیسے ختم کر دیئے گئے۔

مساجد اور مدارس سے کفر کے فتوے بند کروائے جائیں، چیف صاحب کو چاہیے کہ تحقیقات کرائیں کہ ان کا نام کس نے بیچا۔

اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ راجہ طفر الحق سے رابطہ کیا ہے، انکوائری رپورٹ پیش کردیں گے کیس کی سماعت بارہ جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔ سماء

islamabad protest

tly

Tabool ads will show in this div