پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، وزیراعلیٰ سندھ عدالت طلب

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/12/SC-Water-Case-Khi-PKG-04-12-ZOHAIB-New.mp4"][/video]

کراچی : سپریم کورٹ رجسٹری میں شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کے معاملے کی سماعت ہوئی، کراچی اور سندھ والوں کو پينے کا صاف پانی نہ ملنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے وزيراعلیٰ سندھ اور مصطفیٰ کمال کو پرسوں طلب کرليا۔

شہريوں کو صاف پانی کيوں نہيں مل رہا، وزيراعلیٰ سندھ آئيں اور خود بتائيں، سپريم کورٹ نے وڈے سائيں کو طلب کرليا، جسٹس ثاقب نثار نے ريمارکس دیئے کہ لاڑکانہ تو حکمراں جماعت کا گڑھ ہے، 88 فیصد پانی کيوں گندہ فراہم کیا جارہا ہے، جو لوگ گھر گھر جاکر ووٹ مانگتے ہيں، وہ جواب بھی دیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ذمہ داری ادا نہ کرے تو عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے، ہم بغض نہيں رکھتے، میرٹ پر فیصلہ دیتے ہیں، کسی کو اچھا لگے یا برا، بعد ميں بھلے کہتے رہیں کہ میرے خلاف فیصلہ کیوں آيا۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کو صاف پانی اور ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، واٹر کمیشن کی ویڈیو سندھ اسمبلی میں کيوں نہیں دکھائی گئی، بڑے لوگ امپورٹڈ اور غريب گندا پانی پی رہے ہيں۔

عدالت عظمیٰ نے محمود آباد میں فلٹريشن پلانٹ کی 50 ایکڑ زمین غيرقانونی الاٹ کرنے پر مصطفیٰ کمال سے بھی وضاحت مانگ لی۔ سماء

cm sindh

MURAD ALI SHAH

MUSTAFA KAMAL

SCP

Contaminated water

Tabool ads will show in this div