طالبان مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کریں، عرفان اللہ مروت

Nov 30, -0001

ویب ڈیسک


اسلام آباد : مسلم لیگ ن کے رہنما عرفان اللہ مروت کا کہنا ہے کہ طالبان مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں، اس کے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ زاہد حسین نے فوجی کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچوں کو قتل کرنے والوں سے مذاکرات نہیں کئے جاسکتے۔ اعظم سواتی نے کہا ہے امن کیلئے مذاکرات کو ایک موقع دینا چاہئے، ایف سی اہلکاروں کو قتل کرنیوالے انسانیت، قانون اور ملکی آئین کے سنگین مجرم ہیں۔ فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ طالبان اپنے مخالفین کی گردنیں کاٹنے کو درست سمجھتے ہیں، ہمارا فریق جنگ ختم کرنا نہیں بلکہ اپنا نظریہ اور نظام مسلط کرنا چاہتا ہے۔


سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی عرفان اللہ مروت نے کہا کہ مغوی ایف سی اہلکاروں اور فوجیوں کو قتل کرنے والی تنظیمیں اور افراد قابل مذمت ہیں، جنگ بندی یا مذاکرات میں پیشرفت سے ایک روز قبل ایف سی اہلکاروں کا قتل  اور فوجیوں پر حملوں میں ملوث افراد و تنظیموں کیخلاف ہر صورت کارروائی ہونی چاہئے۔


وہ کہتے ہیں کہ حامد کرزئی اور امریکا طالبان سے دبئی و قطر میں بات چیت کررہے ہیں، ہمارے ہاں مذاکرات کرنے پر تنقید کی جاتی ہے، اگر کوئی گروپ طالبان کے کنٹرول میں نہیں اور ہمارے شہریوں و فوجیوں کو قتل کرتا ہے تو اس صورت میں بات چیت نہیں ہوسکتی۔


ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے مکمل جنگ بندی تک مذاکرات نہیں ہوسکتے، طالبان اگر سنجیدہ ہیں تو اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کریں، جو جنگ بندی کرے اس سے بات چیت ہوسکتی ہے، گلے کاٹنے والوں سے نہیں۔


سینئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان میں 10 سال سے دہشت پسندوں کی جانب سے خونریزی ہورہی ہے، سفاکانہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد بھی حکومت مذاکرات کی بات کرے تو یہ شرمناک ہے، ریاست کو کسی گروپ کو برابری کا درجہ نہیں دینا چاہئے، مذاکرات کے 3 ہفتوں میں ریاست نے طالبان کو اپنے برابر لا کر کھڑا کردیا۔


انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی بات ہوئی تب بھی مجھے امید نہیں تھی کہ یہ کامیاب ہوں گے، حکومت کی سنجیدگی نظر نہیں آتی، ان کے پاس کوئی بنیادی ایجنڈا ہی نہیں، حکومت نے اپنا نظریہ چھوڑ کر طالبان کا نظریہ اپنالیا۔


زاہد حسین کا کہنا ہے کہ اے پی سی کی قرار داد کو جواز بنا کر کسی کو دہشت گردی اور قتل عام کی اجازت نہیں دینی چاہئے، جو دہشت گردی سے منکر اور ہتھیار ڈال دے اس سے مذاکرات میں کوئی مضائقہ نہیں، دہشت گردی کے سائے میں بات چیت کامیاب نہیں ہوسکتے۔


وہ کہتے ہیں کہ لڑائی کرنے والوں سے امن کی بات کرنے سے بہتر ہے ملک کو گروی رکھ دیا جائے، اپنے بچوں کو قتل کرنے والوں سے مذاکرات نہیں کئے جاسکتے، پشاور کے قریب طالبان کے ٹریننگ کیمپ قائم تھے، 2009ء میں کارروائی نہ ہوتی تو صورتحال مزید سنگین ہوجاتی۔


پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اعظم خان سواتی نے کہا کہ مذاکرات کے جاری عمل کو ایک موقع دینا چاہئے، ہمارا مؤقف ہے کہ ایک گولی چلائے بغیر امن قائم ہوجائے، انشاء اللہ پاکستان جیتے گا اور ملک میں امن آئے گا۔


ان کا کہنا ہے کہ امن کیلئے سیز فائر بہت ضروری ہے، کور کمیٹی میں کہا گیا کہ طالبان کو فوری طور پر سیز فائر کرنا چاہئے، حکومت کو کسی کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکنے چاہئیں، جو لوگ قتل عام کررہے ہیں وہ ریاست کے مجرم ہیں، قاتلوں کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔


پی ٹی آئی رہنما کہتے ہیں کہ پاکستان میں غیر روایتی جنگ لڑی جارہی ہے، جنگ کا طبل بجانے سے امن کی طرف نہیں جاسکتے، دنیا کی دو بڑی طاقتیں امریکا اور بھارت اس جنگ کی پشت پناہی کررہی ہیں۔


ان کا کہنا ہے کہ ایف سی اہلکاروں کو قتل کرنے والے انسانیت، قانون اور ملکی آئین کے سنگین مجرم ہیں، طالبان کی ترجمانی نہیں کررہے، کارروائی کے نتیجے میں یہ لوگ ملک میں پھیل گئے تو انہیں کیسے سنبھالا جائے گا۔


ایم کیو ایم کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ایف سی اہلکاروں کے قتل میں ملوث دہشت گردوں اور تنظیموں کے خلاف ریاست کو ضرور ایکشن لینا چاہئے، افغانستان اور پاکستان کے طالبان کے مقاصد مختلف ہیں، کالعدم تحریک طالبان پاکستانی ریاست و فوج کے خلاف ہیں، یہ لوگ اپنے مخالفین کی گردنیں کاٹنے کو درست سمجھتے ہیں۔


وہ کہتے ہیں کہ ہمارا فریق جنگ ختم کرنا نہیں بلکہ اپنا نظریہ اور نظام طاقت کے ذریعے دوسروں پر مسلط کرنا چاہتا ہے، جو آئین کو مانتا ہے اسے آئین کے طابع ہونا پڑے گا، جو آئین کو نہیں مانتا اس کے خلاف ریاست کو اٹھانا پڑے گا۔


فیصل سبزواری نے کہا کہ 10 سال سے جاری دہشت گردی میں انفراسٹرکچر تباہ اور 50 ہزار سے زائد شہری و فوجی شہید ہوچکے، ہم آج تک واضح حکمت عملی نہیں بنا پائے یہ افسوسناک ہے۔  سماء

میں

کا

sargodha

tragic

ahmadinejad

mirwaiz

sanitation

Tabool ads will show in this div