افسوس کا دن

ریاست کی بچی کھچی رٹ ایک دھرنے نے پاش پاش کردی۔ دنیا میں ایک ہی پیغام گیا کہ ہم شدت پسندوں کے آگے بے بس ہیں۔ یا پھر ہم سب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اسلام آباد کے ایک جج نے ہمت کرکے بول ہی دیا کہاں گیا وہ ردالفساد۔ کیا یہ فساد نہیں ہے۔ حکومت سمیت پوری ریاست مظاہرین کے آگے جھک گئی۔ پورے معاہدے میں حکومت کے کسی نقطے کو خاطر میں نہیں لایا گیا اورمظاہرین کے تمام مطالبات من وعن مان لیے گئے۔ تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ مولانا خادم رضوی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ان کی کسی وزیرسے کوئی بات تک نہ ہوئی۔ سارا معاہدہ عسکری حکام نے لکھا اور انہوں نے ہی حکومتی وزراء سے دستخط کروائے۔

سیاسی حکومت کی نااہلی نے یہ دن دکھایا۔ کسی وزیر میں ہمت نہ ہوئی کہ وہ کھل کر اپنا کوئی موقف دے سکے۔ مختلف ٹی وی پروگراموں میں وہ یا تو اپنی ہی حکومت کو کوستے رہے یا پھر معاہدے پر افسوس کا اظہارکرتے پائے گئے۔ بےبسی اورلاچارگی ان کے چہروں سے عیاں تھی۔ حکومت کے کسی فرد کے بیان میں تضاد کے علاوہ کچھ نہیں تھا یا پھر کسی کے پاس بہت سارے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اتنا کچھ کرنے کے بعد اگر وزیرقانون نے استعفیٰ ہی دینا تھا تو ابتدا میں ہی ایسا معاہدے کرلیتے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال دعوے کرتے رہے کہ وہ تین گھنٹوں میں دھرنہ ختم کرا دیں گے۔ مگرایسا محسوس ہوا کہ وہ محض خود ساختہ فلسفی ہیں اورحقیقت میں ایسی صورت حال کبھی دیکھی ہی نہیں۔ تمام ٹی وی چینلز بند کروا دیئے اوربعد میں ہونے والے معاہدے کو ایک افسوسناک باب قراردے دیا۔ انہیں تو چاہیئے تھا کہ وزیرقانون زاہد حامد سے پہلے وہ خود مستعفی ہو جاتے۔

کچھ لوگ ابھی بھی اس ندامت، عبرت اور ڈوب مرنے کے مقام کوصبح دوام زندگی اورفخرکا باب تصور کررہے ہیں اور خوشی خوشی بتا رہے ہیں کہ ہم نے کیسی خوش اسلوبی سے یہ سارا معاملہ طے کرلیاجس میں جیت صرف ان کی ہوئی اورہمارے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا تو کیا غم۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت دشمنی میں ہمارے عام ان پڑھ لوگ، پڑھا لکھا طبقہ اوربعض دانشورکسی بھی قسم کی اخلاقی گراوٹ کا شکارہوسکتے ہیں۔ یہ کسی حکومت یا پارٹی کا مسئلہ نہیں تھا کہ مخالفین خوشیاں منا رہے ہیں۔ منافقت اورتنگ نظری کی انتہا ہوگئی۔ اگرآج یہ شدت پسند ایک کمزورحکومت کی گردن دبوچ کراپنی شرائط منوارہے ہیں تو کل کسی اورکی باری آئے گی۔ آج اگرطاقت ورادارے ان عناصر کے سامنے زمیں بوس ہوگئے ہیں تو کل وہ ان کے سامنے کھڑے ہوگئے توپھر یہی اپنے لوگ ریاست کے دشمن قرار دیئے جائیں گے۔ جیسے سوات کے صوفی محمد کے داماد ملا فضل اللہ۔ فتح کے جشن مناتے یہ مظاہرین جی ٹی روڈ کے راستے واپس لاہور آچکے ہیں یہ وہی جی ٹی روڈ ہے جہاں سے چند مہینے قبل سابق وزیراعظم نوازشریف نااہلی کے بعد مجھے کیوں نکالا کی چیخ وپکار کرتے واپس گھرآئے تھے۔ مگرنوازشریف آج دھرنے میں اپنی نااہل وزراء کی ٹیم کے ہاتھوں اپنی سبکی کروا کربولنے سے قاصر ہیں۔

آج ایک ادارے کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں کہ ملک کو خونریزی سے بچا دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو امن پسند کہنے والے یہ لوگ خون خرابہ بھی کرسکتے تھے۔ اسی شدت پسندی کے ہاتھوں تو ہم پہلے ہی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں۔ اب ان میں سے چند ایسے گروپوں کوقومی سیاست کے دھارے میں شامل کرنے کے منصوبوں کی تکمیل ہو رہی ہے جن کے نظریات اورعقیدے سے دنیا اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کرتی۔ اس سے بڑھ کریہ کہ انہی کی سوچ کے باعث ملک کے اندراور ملک سے باہر بیٹھے دہشت گردوں کو یہاں سہولت کار ڈھونڈنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ اب انہی لوگوں نے پہلا ٹریلر تو دکھا دیا کہ انہوں نے ریاست کواپنے آگے گھٹنے ٹیکنے پرمجبورکر دیاااوراب آگے فلم کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔

اس پر ظلم یہ کہ جب پڑھے لکھے لوگ جو ملک میں امن چاہتے ہیں، حکومت اور اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شدت پسندی پر قابوپائیں کیونکہ پچھلے پندرہ سالوں بہت خون خرابہ دیکھ لیا۔ توان کی ذات پر گھناؤنے حملے شروع ہوجاتے ہیں تاکہ ان کے بیانیے اہمیت ہی نہ رہے۔ اسی طرح کی حکمت عملی سے اس طبقے کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ملک کی خیرخواہی اسی میں تھی کہ تمام معتبرسیاسی شخصیات ایسے کٹھن وقت میں موجودہ حکومت کے کمزور ترین لمحات میں اس کا ساتھ دیتیں تاکہ امن پسند شہریوں کو اطمینان ہوتا کہ سیاستدان ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے کے لیےسنجیدہ ہیں۔ یہ خودغرضی کی معراج نہہں تو اورکیا ہے۔

ختم شد!!

SIT IN

RAAD UL FASAAD

Tehreek -e- Labbaik

Faizabad

religion zahid hamid

Tabool ads will show in this div