کالمز / بلاگ

تھر کول منصوبہ ایک مثبت قدم

حال ہی میں اینگرو کمپنی اور پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کی بدولت تھر کول پاور پلانٹ کا مطالعاتی دورہ کیا جس کی وجہ سے تھر اور تھر کول پروجیکٹ کے حوالے سے ہماری معلومات میں بیش بہا اضافہ ہو ا ،قدرت نے صحرائے تھر کو جہاں محیرالعقول سے نوازا ہے وہاں اسے معدنی دولت سے بھی مالامال کیا ہے۔ تھر پارکر کا وسیع و عریض علاقہ اپنے وجود میں بے پناہ قیمتی وسائل اور خزانے سمیٹے ہوئے ہیں جو اس سر زمین اور اس کے مقامی لوگوں کے لئے عطیہ خداوندی ہے۔تھر میں دریافت ہونے والا 20 سے30میٹر کثافت کوئلہ ماہر ین کے مطابق پاکستان کی صدیوں کی ضررویات کیلئے کافی ہیں،ایک وقت میں اس سے چار روپے فی یونٹ بجلی کے ساتھ ساتھ دیگربہت سی ضروریات باآسانی پوری کی جا سکے گئی۔ جبکہ کوئلے سے زمین کے اندر، گیس ، ڈیزل اور پٹرول کا متبادل بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں چالیس فیصد بجلی کوئلے سے پیداکی جاتی ہے تھر کول ایک ایسا پروجیکٹ جس کی وجہ سے صحرا میں پایا جانے والا کوئلہ ملک میں توانائی بحران کے حل کی بڑی امید بن گیا ہے۔ دو سو ارب سے زائد کی لاگت سے کول ایریا کے بلاک 2 پر مائننگ اور پاور پلانٹس کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس پروجیکٹ کی بریفنگ دیتے ہوئے بریگڈئیر طارق قادر لاکھر نے بتایاکہ سندھ حکومت اور نجی کمپنیوں کے اشتراک سے 2011میں شروع ہوا ہے اور2019تک مکمل ہو جائے گا اگر اینگرو والے اکتوبر2019تک مکمل نہ کر سکے تو تمام سرمایہ حکومت کو وپس کرے گے کول ایریا کے بلاک 2پرتقریباً دو سو دس ارب روپوں کی لاگت سے کو ئلے کی کھدائی اور بجلی تیار کرنے والے پاور پلانٹس کی تعمیر کا کام تقریباً52% فیصد سے زائد مکمل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے اب حکومت اور عوام کی نظریں ان منصوبوں کی جانب لگی ہیں تاہم ان زیرتکمیل منصبوبوں پر مقامی افراد کو کچھ خدشات بھی ہیں جن کو دور کررہے ہیں۔اس منصوبے کے نتیجے میں ماحولیاتی تحفظ کیلے غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں پاور پلانٹ سے دھویں اخراج کر نے کیلے 180 میٹر بلند چمنی تعمیر کی گئی ہے جوکہ دنیا کی سب سے بڑی چمنی ہے جبکہ عام طور پر ایسی چمنیوں کی محض 120 میٹر تک اونچائی ہوتی ہے تاہم ماحولیاتی تحفظ کے پیش نظر چمنی کی تعمیر میں اضافی اخراجات برداشت کیے جارہے ہیں تاکہ مقامی افراد اور علاقے کو کسی ممکنہ مضر اثرات سے بچایا جاسکے۔ایک اندازے کے مطابق پہلے فیز میں تیارکی جانے والی بجلی آئندہ پچاس سالوں میں پورے ملک کیلے کافی ہوگی اور دوسرے مراحل میں تیارکی جانے والی بجلی نہ صرف 100 سال تک ملک کی ضروریات ک پورا کرے گی بلکہ تجارتی بنیادوں پر فروخت بھی کی جاسکے گی۔اس پروجیکٹ میں 1200چائنیز اور 1250مقامی لوگ کام کرہے ہیں اس پروجیکٹ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ تھر کے مقامی لوگوں ملازمت دی جارہی جونہ صرف مرد کو بلکہ خواتین کو بھی دی جارہی ہے28تھر ی خواتین ڈرائیورز تیار کی جارہی ہیں اُن خواتین کو 2سال کی ٹریننگ دی جائے گی انکی تعلیم کا معیار کم ازکم میٹرک ہے اور یہ ملازمت بھی اُن لوگوں کی قابلیت کی بنیاد پر دی جارہی ہیں بغیر کسی سفارش کے اورایسے ، تمام امور جس میں مہارت یا تعلیم کی ضرور ت نہیں وہ تمام کام تھر کے باشندوں سے لئے جارہے ہیں ۔ تھر میں پہلی بار ایک نوجوان لڑکی کرن سادھوانی انجینئرکے فرائض انجام دے رہی ہے جب کرن سادھوانی نے انجینئر نگ پڑھنے کا سوچا تو اُن کے وہم وگمان بھی نہ تھا ایک دن بطور انجینئر کے تھر کول پروجیکٹ کیلے اُن کا انتخاب کیا جائے گا اور اپنے ضلع کی خدمت سرانجام دینے کا خواب پورا ہو گا ، جبکہ مستقبل میں 200 بستر پرمحیط ہسپتال تعمیر کیا جارہاہے۔جس جگہ سے کوئلہ نکالا جارہے اس زمین پر آباد خاندان کے ہرشادی شدہ جوڑے کو1100گزکے جدید تقاضوں کے مطابق بنائے ہوے گھربھی دیے جائیں گے۔ سندھ اینگرومائینگ کمپنی تھرکے باشندوں کو صحت اور تعلیم فراہم کرنے کےلئے ماروی چائلڈاینڈ مدر ہیلتھ سینٹراور ایک اسکول چلارہے ہیں اور تھرفاﺅنڈیشن حکومت سندھ کے ساتھ مل کر کام کرر ہی ہے اگلے 5سالوں کیلئے اسلام کوٹ میں 200اسکولوں کو سنبھال لیا ہے اس پروجیکٹ سے تھر میں بسنے والوں کی زندگیوں میں انقلاب آئے گا اور تھر کے عوام خوشحال ہونگے۔

 

Coal Project

Tabool ads will show in this div