فیض آباد دھرنے کے معاہدہ پر چئیرمین سینیٹ برہم

Nov 28, 2017

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/11/Senate-Session-Isb-Pkg-27-11.mp4"][/video]

اسلام آباد: دھرنا کن شرائط پر ختم کیا گیا؟ حکومت نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا مناسب ہی نہیں سمجھا۔ چئیرمین سینيٹ نے کہا کہ توہین عدالت کی طرح توہین پارلیمنٹ کا نوٹس بھی دے سکتا ہوں۔


فیض آباد دھرنا کیسے ختم ہوا؟ حکومت کی غیر سنجیدگی پر چئیرمین سینیٹ کا صبرجواب دے گیا۔ حکومتی اراکین کو کھری کھری سنادی اور کہا کہ بائیس روز سے دھرنا جاری رہا، اتنا بڑا واقعہ ہوگیا۔ ارکان پارلیمنٹ کے گھروں پر حملے ہوئے، ٹی وی چینلز بند رہے، آرمی چیف نے مداخلت کی اور حکومت نے معاہدہ کیا مگر آپ ایوان کو اعتماد میں لینے کیلئے تیار ہی نہیں۔

چیئرمین کو جلال میں دیکھ کر وزیر مملکت طلال چوہدری نے فون گھمائے مگر وزیر داخلہ سے رابطہ نہ ہو سکا تو ایک دن کی مہلت کی استدعا کر دی مگر رضا ربانی کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا۔ بولے نہ وزیر اعظم ہیں نہ وزیر داخلہ ایسا کریں ملک کو ٹھیکے پر دے دیں، توہین عدالت کی طرح توہین پارلیمنٹ کا نوٹس بھی دے سکتا ہوں۔

چئیرمین سینیٹ کہا کہ موجودہ حالات انتہائی سنگین ہیں، تمام جماعتوں کا جمہوریت کیلئے متفق ہونا ہوگا۔

اجلاس میں ارکان کی تعداد کم اور اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث چوتھی بار بھی نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے ترمیمی بل پیش نہ ہو سکا۔ اجلاس کی کارروائی غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔ سماء

RAZA RABBANI

agreement

Senate Chairman

Faizabad protesters

Tabool ads will show in this div