لاہور کی بیشتر تجارتی عمارتوں میں ایمرجنسی راستے ہی موجود نہیں

اسٹاف رپورٹ

لاہور : لاہور کے بيشتر کمرشل پلازوں ميں ہنگامی حالت کے دوران باہر نکلنے کے راستے ہی موجود نہيں، پلازہ مالکان نے اپنے اخراجات بچاکر ہزاروں انسانی زندگياں داؤ پر لگا رکھی ہیں جبکہ قوانين کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی پر سرکاری ادارے خاموش ہيں۔

انار کلی بازار میں موت کی تجارت، بلند و بالا پلازے تنگ راہدارياں اور کوئی ايمرجنسی الارم نہيں، رہی سہی کسر بجلی کے بے ہنگم تار پوری کررہے ہيں، شارٹ سرکٹ ہو جائے تو سب کچھ راکھ ہونے ميں دير نہيں لگتی۔

يوں تو ہنگامی راستوں کی پابندی کا قانون 2008ء میں منظور ہوا لیکن یہ قانون صرف فائل کی حد تک ہی رہا، شہر ميں کہيں بھی پلازہ بنانا ہو تو پيسہ پھينک تماشا ديکھ، ہر محکمہ کاغذی کارروائی کرے گا، فائل کا پيٹ بھرے گا ليکن قوانين پر عمل درآمد کہيں نظر نہيں آئے گا۔

لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حکام کے مطابق ہنگامی راستے کے قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کوئی جرمانہ مقرر ہے اور نہ ہی کبھی کسی کو اس معاملے ميں کوئی نوٹس جاری کیا گیا۔

لوگوں کے مطابق پلازوں کی تعمير کے وقت اگر قوانين پر عملدرآمد ہو تو  ايمرجينسی صورتحال ميں جانی اور مالی نقصان کے امکان کو کم کيا جاسکتا ہے۔ سماء

لاہور

law

green

Tabool ads will show in this div