فیض آباد دھرنا،سیکیورٹی اہلکاروں کی تیاریاں مکمل،صبح آپریشن کا امکان

اسلام آباد : حکومت نے فیض آباد انٹر چینج پر ہٹ دھرم مظاہرین سے نمٹنے کی تیاریاں مکمل کرلی، آپریشن کسی بھی وقت شروع ہونے کا امکان ہے۔ حکومت کی جانب سے مذہبی جماعت کا دھرنا عدالتی حکم پر منتشر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد اور راول پنڈی کے سنگم پر ہٹ دھرم مظاہرین کا دھرنا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ممکنہ آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔ مری روڈ پر اٹک، چکوال، جہلم اور گوجر خان کی نفری پہنچا دی گئی ہے۔

اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی صورت حال کے پیش نظر 7000 سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ دوسری جانب رینجرز، پولیس اور ایف سی کے اہل کار چوکس ہیں۔

ذرائع کے مطابق پیر آف گولڑہ شریف نظام الدین جامی نے حکومت سے ڈیڈلائن میں توسیع کی درخواست کی ہے جس کے بعد ڈیڈ لائن میں توسیع کا امکان ہے۔

اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنا ختم کرانے کا عدالتی حکم نہ ماننے پر وزیر داخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔

عدالت نے کہا کہ وزیرداخلہ پیش ہو کر وضاحت کریں کہ کس قانون کے تحت انتظامیہ کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے روکا؟ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ ڈبل گیم کھیلا جارہا ہے، یہ عدالت کے حکم کو نیچا دکھانے کی کوشش ہے، دھرنے کی قیادت بظاہر دہشت گردی میں ملوث ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی نہیں بلکہ ریاست مخالف سرگرمی ہے، عدالت نے تین دن میں دھرنا فیض آباد سے پریڈ گراؤنڈ منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

دوسری جانب دھرنے کی مانیٹرنگ کرنے والے سی سی ٹی وی کیمروں کی کیبل کٹ گئی۔ وزیرداخلہ احسن اقبال نے سی سی ٹی وی کیمروں کی کیبل کٹنے پر چیف کمشنر اسلام آباد کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق سیف سٹی کے3سی سی ٹی وی کیمروں کی کیبل کاٹی گئی۔

ادھر کراچی میں بھی ایم اے جناح روڈ، نمائش چورنگی پر تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے فیض آباد مظاہرے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کے لیے 6روز سے دھرنا دیا جارہا ہے۔ سماء

SIT IN

Religious party

Faizabad

Tabool ads will show in this div