اسلام آباد دھرنا؛سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اسلام آباد دھرنا نوٹس کا تحریری حکم جاری کر دیا۔ تحریری حکمنامے کے مطابق دھرنا ختم کرانے کیلئے گولیاں برسانا ضروری نہیں، لاٹھی چارج اورمہذب معاشرے میں استعمال ہونے والے طریقے اپنائے جا سکتے ہیں ۔

سپریم کورٹ نے حساس اداروں کی رپورٹس غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے جامع رپورٹس اور دھرنے پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت کی جانب سے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ دھرنے والوں کو شاہراہ کے درمیان میں تمام سہولیات میسر ہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے سامنے آزادانہ آتے جاتے ہیں، دھرنا قائدین گالم گلوچ اور غلیظ زبان استعمال کر رہے ہیں۔

حکمنامے کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ ملنے پر بھی گالیاں نکالی گئیں لیکن عدالت دھرنے والوں کو ان کی زبان میں جواب نہیں دے سکتی۔ عدالتی حکم نامے میں جن آیات اور احادیث مبارکہ کا حوالہ دیا گیا دھرنے والوں نے ان کا بھی پاس نہیں رکھا ۔ دھرنے والوں روزانہ نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنتے ہیں اور بہترین کھانا بھی کھاتے ہیں ۔ ایسی سہولیات ہائی وے پر دستیاب نہیں ہوتیں ۔ آئی ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق دھرنے والوں کے مقاصد سیاسی ہیں ۔

حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ سیاسی ایجنڈے کیلئے غلیظ زبان کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ عدالتی فیصلے کا اردو ترجمہ دھرنے کے شرکا میں تقسیم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ سماء

SIT IN

faizabad dharna

written order

Tabool ads will show in this div