چلو،چلو،کہیں توچلو

Nov 24, 2017

ہم بھی کیا قوم ہیں ، جو جب چاہے، جس طرح چاہے ، استعمال کرے ، پھرہم کو فارغ البال کرے ، بےحال کرے ، ہم نے پلٹ کر اس سے وجہ نہیں پوچھنی کہ جناب عالی ، پہلے تو دی تھی تالی، اب کیوں توجہ ہم سے ہٹالی، ہماری قومی زندگی میں بارہا ایسےلمحات آئےجب کسی بھی سرپھرے ،موقع پرست اور مداری نےنت نئے کرتبوں کے ذریعےاپنی جانب راغب کیا ، ہم ٹھہرے ہمیشہ کے تماش بین، بھیڑ چال ہماری پرانی عادت ، بس چل دینا یہ سوچے سجھے بغیر کہ رہنما ہے کہ رہزن ہے ، بیچ راہ میں تو چھوڑ کرنہیں چل دے گا، قومی زندگی کے ستر سال پورے ہوچکے لیکن اب بھی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ، وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے، جتھےساڈا نورجمال، کھوتا ، کتا سب حلال، جس کا دل جس پر آگیا ، اس نےکبھی یہ نہیں سوچنا کہ اس لیڈر کا اپنا مکان کہاں ہے ، اس کے بچے کہاں پڑھتے ہیں ، سیاست میں آنےسے پہلے اس کی مالی حیثیت کیا تھی ، پالیٹکس میں آنے کے بعد اس کے بھاگ کس طرح جاگے ، اس نے ہمارے کیس کو کس طرح لڑا ، مفادات کے تحفظ کے لئے کس حد تک گیا ، اس کی اپنی اخلاقی حالت کیا ہے ، بہن بیٹی کا رشتہ کرتے ہوئے تو ہم نیکی کے آخری درجے کے حامل شخص کےطلب گار ہوتے ہیں ، لیکن اپنا رہنما بناتے ہوئے نہ جانے کیوں ہم سارے اخلاقی معیار بھول جاتے ہیں۔

بس بڑی گاڑی ، ششکے،پروٹوکول ، ہٹوبچوکی صدائیں ہمارا دل موہ لیتی ہیں ، پھر کوئی ہمیں ہانک کر کہیں بھی لے جائے ، ہم نے چلے جانا ہے کیوں کہ اس بات پر ہم نہال ہوجاتے ہیں جب کوئی نعرہ لگاتا ہے چلو، چلو فلاں جگہ چلو۔زندگی میں ایک پل بھی چین آئے نہ، یہ ہماری دل سے دعا بھی ہے ، کوشش بھی ، یقین نہ آئے تو سڑکوں سےلےکرتقریبات اور زندگی کے ہر شعبے میں دیکھ لیں ، ہم نے ایک دوسرے کا ناقطہ کس مہارت سے بند کررکھا ہے اس پر عش عش کرنے کو دل کرتا ہے ، دفتری معاملات ہوں یا مسجد میں نماز پڑھنا، تقریبات میں کھانا کھانا ہو یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر ، ہم نے ایک دوسرے کو دھکیلنا ہے، کاندھوں پر سفرکرتےہوئےآگےبڑھ جانا ہے، کوئی لاکھ احتجاج کرے ، احساس دلانے کی کوشش کرے ،ہم نےنہ ماننا ہے، نہ ہی اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہے کیوں کہ ہمارا تو ساری دنیا سے یہی کہنا ہے کہ ہم سا ہو تو سامنے آئے۔

کسی کےگھرکامعاملہ ہویاکوئی بھی اور مسئلہ، ہم نےرہزن کو رہنما بنانا ہے ، پھرسڑک پرآجاناہے ، سب ہم وطنوں کو ستانا ہے، اپنی کرکے دکھانا ہے ، ملک کے جس کونے میں دیکھو ، چائے کی پیالی میں طوفان کا سماں ہے ، دارالحکومت اسلام آباد ہو یا روشنیوں کا شہر ، زندہ دلان کی بستی ہو یا صنعتی مرکز ، پروٹسٹ ایٹ اٹس بیسٹ ، باقی سب کرو ریسٹ ، جس کسی نے بھی نکل کر صدا لگائی ، خلق خدا نے اس کو مایوس نہیں کیا ، دامے، درمے ، سخنے گھر سے نکل پڑے ، اب یہ مداری کی مرضی ہے کہ جب تک چاہے تماشا لگائےرکھے، پھرمرضی کی قیمت وصول کرکےملکی مفاد کا نعرہ بلند کرے، وطن عزیز کولاحق خطرات کا تذکرہ کرے ، یہ بتائےکہ اس نےکسی قیمت پر نہیں جھکنا تھا ،لیکن کیا کریں کہ گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے، گھر تو آخراپنا ہے۔

آخرمیں صرف اتنی سی درخواست کہ عزیز ہم وطنو، بستر چھوڑو، اور منہ دھولو ، اتنا سونا ٹھیک نہیں ہے ، اب بھی وقت ہے ، ہوش کے کیا اپنے بھی ناخن لو، لیکن تعصبات سے، ذاتی پسند ناپسندسے، مفادات  سےباہرآُٓجاؤ، ان مداریوں سے، ان سرکس والوں سے جان چھڑاؤ، کچھ اپنی عقل سےبھی کام لینا شروع کرو، کب تک جذبات میں آکراپنا اور نسلوں کو نقصان کرتے رہو گے، آج تک تو یہی ہوتا آیا ہے کہ ایک کے ہاتھوں ڈسے جانے کےبعدہم نےدوسرے کے لئے بھی دیدہ و دل فرش راہ کیا ، وہ جعلی پیرہوں یا دونمبرکےسیاسی رہنما ، ناقص کھانوں کے بڑے بڑے ریستوران ہوں یا اعلیٰ تعلیم کے سوداگر، ہم نےبھیڑ چال کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے ، اس لئےچلو ،چلوکی گردان سےباہرآکراب ہم نےان کواپنی قومی زندگی سے چلتا کرنا ہے جن سےپہلے بھی فریب کھایاجاچکا ہے، اب ہم نےاپنےعمل سےیہ بات ثابت کرنی ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔ سماء

SIT IN

Tabool ads will show in this div