دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، وزیر مملکت بلیغ الرحمان

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہشت گردوں کے حملوں کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کردیا، وزیر مملکت بلیغ الرحمان کہتے ہیں دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، دوسری جانب جنگ بندی کے مطالبے پر غور کیلئے کالعدم تحریک طالبان کا اجلاس جاری ہے۔


ملک میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات نے حکومت کو رویہ بدلنے پر مجبور کردیا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایک بیان میں واضح کردیا ہے کہ ملک اور قوم کی سلامتی کیلئے ہر قدم اٹھایا جائے گا، مسلح افواج دہشتگردی اور بربریت کے ہر واقعے کا بھرپور جواب دیں گی۔


دوسری طرف وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل ابھی رکا ہوا ہے، دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔


اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے مستقبل کا فیصلہ دونوں کمیٹیوں نے کرنا ہے، حکومتی مذاکراتی ٹیم بااختیار ہے، دہشت گردی روک دی جائے تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔


ادھر کالعدم تحریک طالبان کی شوریٰ کا اجلاس بھی خفیہ مقام پر جاری ہے، جس میں مذاکرات کیلئے کارروائياں روکنے کی حکومتی شرط پر غور ہورہا ہے، ذرائع کے مطابق اجلاس ميں حکومت کو مثبت جواب دينے پر اتفاق رائے کا بھی امکان ہے۔ سماء

اور

tests

وزیر

law

arabs

hub

island

transplant

Tabool ads will show in this div