فوجی عدالتوں کا قیام، سیاسی و عسکری قیادت کا آئین میں ترمیم پر اتفاق

ویب ایڈیٹر

اسلام آباد : سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردوں کیخلاف فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے آئین میں ترمیم پر متفق ہوگئے، وزیراعظم کی زیر صدارت بیٹھک میں تحفظ پاکستان ایکٹ، آرمی ایکٹ، نیوی ایکٹ اور ایئر فورسز ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا، فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں بنیں گی، قومی ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدرآمد پر بھی تمام قائدین متفق ہوگئے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ منگل کو آئینی ترمیم سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور کرائی جائے گی، جس کے بعد دہشتگردی سے نجات کا عملہ آغاز ہوگا۔

وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق سیکیورٹی 5 گھنٹے طویل اجلاس ہوا، جس میں  آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر، ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم باجوہ، عمران خان، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، ایم کیو ایم، اے این پی، مسلم لیگ ق سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہان و رہنماؤں نے شرکت کی۔

دہشت گردوں کے فوری ٹرائل کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق آئینی ترمیم کے نکات سماء کو موصول ہوگئے، جس کے مطابق تحفظ پاکستان ایکٹ، آرمی ایکٹ، نیوی ایکٹ، ایئر فورس ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان ترامیم کو آئین کے پہلے شیڈول میں شامل کیا جائے گا، جو عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکتے، آرٹیکل 8 شق 3 کے تحت ان قوانین کو عدالتی کارروائی سے استثنٰی حاصل ہے، آئینی ترامیم کے ذریعے فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں بنیں گی۔

اجلاس کے فیصلوں سے متعلق اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدرآمد، فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے آئینی ترمیم پر متفق ہے، فوجی عدالتیں بنانے کیلئے آئینی ترمیم کی جائے گی، خصوصی عدالتیں 2 سال کی مدت کیلئے قائم ہوگی، جنہیں آئینی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مجرموں کا ٹرائل عام عدالتوں میں ممکن نہیں، ان کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہوگا، ان عدالتوں کے تحفظ کیلئے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم ہوگی، آئینی ترمیم کل قومی اسمبلی اور منگل کو سینیٹ میں متفقہ منظور کرائی جائے گی، ترمیم کے بعد دہشتگردی سے نجات کا عملی آغاز ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اتفاق رائے میں قائدانہ کردار ادا کیا، چاہتے ہیں آئینی ترمیم کے موقع پر تمام سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں موجود ہوں۔ سماء

promise

Tabool ads will show in this div