لاہورہائیکورٹ نےقیدی محمد فیض کی پھانسی سےمتعلق درخواست نمٹا دی

ویب ایڈیٹر:


لاہور  :  سزائے موت کے قيدی محمد فیض احمد کی پھانسی سے متعلق درخواست نمٹا دی گئی، عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں دائر مجر کی اپیل کے فیصلہ آنے تک ڈیتھ وارنٹ پر عمل درمآمد ممکن نہیں، واضح رہے کہ مجرم محمد فیض احمد کو رواں ماہ چودہ تاریخ کو پھانسی دی جانی تھی۔

لاہور ہوئی کورٹ میں سزائے موت کے قیدی محمد فیض احمد کی پھانسی روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ جیل فیصل آباد، آئی جی جیل خانہ جات اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں مجرم محمد فیض کے وکیل کا کہنا تھا کہ فیض کی اپیل عدالت میں زیر سماعت ہے، ڈیتھ وارنٹ پر عمل روکا جائے،اپیل 2009ء سے زیر التواء ہے، اس لیے ڈیتھ وارنٹ جاری نہیں کیے جاسکتے۔ معزز عدالت کے سامنے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ سے اپيل مسترد ہونے پر ڈیتھ وارنٹ جاری ہوجاتے ہیں، مگر جب اپیل سپریم کورٹ ميں سماعت کیلئے منظور ہو تو اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا، جس پر جسٹس عبدالسمیع نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا مذاق ہے کہ اپیل زیر سماعت ہے اور آپ نے پھانسی کی تاریخ مقرر کردی۔

جسٹس عبدالسمع نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ جب مجرم کی اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے توڈیتھ وارنٹ کیسے جاری ہوگئے،جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف دیا کہ ڈیتھ وارنٹ پھانسی کی سزا سنانے کے بعد جاری کیے جاتے ہیں، جو ننکانہ صاحب کی عدالت نے سنائی، سپریٹنڈ جیل نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اپیل پر فیصلہ نہیں آجاتا، ڈیتھ وارنٹ پر عمل درآمد نہیں کریں گے۔ عدالت نے سپریٹنڈ جیل کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تحریری طور پر لکھ کر دیں کہ آپ اپیل کے فیصلے تک پھانسی نہیں دیں گے۔ جس کے بعد عدالت نے کیس سے متعلق اہل خانہ کی جانب سے دائر درخواست نمٹا دی۔

واضح رہے کہ محمد فیض کو ننکانہ صاحب میں دو فوجی اہلکار لانس نائیک مولا بخش اور طارق محمود کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی، محمدفيض کےڈيتھ وارنٹ انسداددہشت گردی عدالت نے جاری کیے تھے۔ سماء

کی

درخواست

دی

comedian

olympic

ittehad

Tabool ads will show in this div