کالمز / بلاگ

قائد کا نام ہٹا دیجیے

جن معاشروں میں ریاست تعلیم کی ذمہ داری بااحسن و بخوبی نبھاتی ہے ان معاشروں کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا کیوں کہ تعلیم جن معاشروں میں عام ہو جائے اور ہر ایک کی رسائی اس تک بناء تفریق قبیلہ ، رنگ و نسل ہو جائے وہاں ترقی ایک ایسے سر پٹ گھوڑے کی طرح سفر طے کرتی ہے جسے روکنا دنیا کی کسی طاقت کے بس میں نہیں رہتا۔ ملائشیا، چین، ترکی، بھارت، جاپان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کے تعلیم یافتہ دماغ نہ صرف ان کو اندرونی طور پہ مضبوط بنا رہے ہیں بلکہ پوری دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھتے ہوئے اپنا اور ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔(گول، فیس بک، ٹوئیٹر وغیرہ میں ان ممالک کے لوگ کلیدی عہدوں پہ فائز ہیں) اور کچھ بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں دنیا پہ حکمرانی کے لیے اسلحے سے زیادہ تعلیم یافتہ ، ماہر، ہنر مند دماغ اہمیت اختیار کر جائیں ۔

" میں آپ کو مصروف عمل ہونے کی تاکید کرتا ہوں، کام ، کام اور بس کام۔ سکون کی خاطر، صبر و برداشت کے ساتھ اپنی قوم کی سچی خدمت کرتے جائیں" قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے جب15نومبر 1942 کے دن جالندھر میں آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹ کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ نادر موتی ارشاد فرمائے ہوں گے تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ ایک دن ان کے خواب کی تعبیر میں ایسا بھی آئے گا کہ ان کے نام سے منسوب درسگاہ میں تعلیم کے بجائے پتھراؤ ہو رہا ہو گا۔ جس درسگاہ کے ماتھے پہ ان کے نام کے حروف جگمگا رہے ہوں گے اُس میں طلباء اُن کے پیغام کو بھول کر لسانی بنیادوں پہ مضبوط دیواریں کھڑی کر رہے ہوں گے۔ اور اساتذہ الگ ہٹ دھرمی اپنائے ہوئے ہوں گے۔ اور حکومت وقت کا کہیں نام و نشاں بھی محسوس نہ ہو گا۔ اُنہوں نے طالبعلموں سے اپنے خطاب کے دوران ایک لمحہ بھی یہ تصور نہیں کیا ہو گا کہ جس ریاست کا تصور کو وہ تعبیر دینے کا سوچ رہے ہیں۔ اپنا دن رات ایک کیے ہوئے ہیں وہ اتنی کمزور ہو جائے گی کہ بیرونی طاقتوں سے مقابلہ تو دور کی بات ایک شہر کے ایک تعلیمی ادارے کے چند طلباء کے آگے بے بس ہو جائے گی کہ اُن کے مطالبات ماننے کے سوا ریاست کے پاس کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ ایمانداری کا درس دیتے ہوئے قائد کے اندیشہ ء شعور میں ہرگز یہ نہیں آیا ہو گا کہ اقبال کے خواب کو پاکستان کی تعبیر وہ دیں گے تو ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ علمی مرکز میں تعلیم کے بجائے سیاست زوروں پہ ہو گی، ہر علاقے سے منسوب ایک گروہ سامنے ہو گا، جو پنچابی، پٹھان، سرائیکی ، سندھی، بلوچی طلباء کے حقوق کے لیے تو ہڑتال کرئے گا مگر اس بات پہ ہڑتال نہیں کرئے گا کہ ایک ایسی درسگاہ جو منسوب ہی اس قائد کے ساتھ ہے کہ جس نے اپنی بیماری تک کی پرواہ آزاد وطن کی خاطر نہیں کی۔ اور اس درسگاہ کا نام جب ہڑتالی طلبہ کے ساتھ پوری دنیا میں جا رہا ہو گا تو درسگاہ یا طلبہ کا نام بعد میں اور پہلے قائد کا نام جائے گا ۔ اور حد تو یہ ہے کہ پانچ سٹوڈنٹس یونین یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ ہیں صرف ایک گروپ مخالفت میں اور احتجاج کی راہ پہ ہے مگر سلام ہے اس انتظامیہ کو کہ وفاق کے قلب میں قائم درسگاہ پہ ایک گروپ حاوی ہے اور پوری حکومتی مشینری ناکام ہے۔ درسگاہ کی انتظامیہ مکمل طور پہ ایک فریق بن کے ابھری ہے۔ اور پوری درسگاہ میں صوبائیت کی ہوا زوروں پہ ہے۔ وفاق کے قلب میں واقع اس درسگاہ میں صوبائیت کے پرچار اور صوبائیت کی بنیاد پہ احتجاج و معاملات نہ صرف اس درسگاہ کو تعلیمی لحاظ سے پیچھے لے جا رہے ہیں بلکہ اس کی شناخت بری طرح مجروح ہو رہی ہے۔حیرت تو اس بات کی ہے کہ ایسا کسی دور دراز علاقے میں ہوتا تو پھر بھی توجیح پیش کی جا سکتی تھی لیکن وفاقی دارلحکومت میں اس معاملے کا ہونا اور اس کو گونج ایوان میں بھی سنائی دینا( رضاربانی صاحب اس مسلے کا نوٹس لے چکے ہیں، وفاقی وزیر داخلہ بھی اس سے بخوبی واقف ہیں)اور ارباب اختیار کا پوری حکومتی مشینری ہوتے ہوئے بھی اس معاملے سے نمٹ نہ سکنا نہ صرف حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کے سربراہوں کی قابلیت پہ بھی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ کہ کہیں ہمارے تعلیمی اداروں میں سیاسی بنیادوں پہ تعیناتیاں تو نہیں ہو رہیں؟ کہ معاملات بہتری کے بجائے تنزلی کی جانب جا رہے ہیں۔

حکومتی دعوئے اپنی جگہ مگر اعلیٰ تعلیم کا پاکستان میں حال یہ ہے کہ سندھ یونیورسٹی میں اساتذہ و طالبعلم ہراساں کرنے کے معاملے پہ آمنے سامنے ہیں ایک جانب طالبعلم دوسری جانب اساتذہ ایک ہی دن ریلیاں نکال رہے ہیں۔ جامعہ کراچی و این ای ڈی جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ شدت پسند گروہ تشکیل دے رہے ہیں۔ لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل ہیلتھ اینڈ سائنسز کی طالبہ عالمی شدت پسند تنظیم کا حصہ بنتی دکھائی دیتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی جیسی قدیم درسگاہ کے معلم و طلبہ اپنے مشکوک روابط کی وجہ سے سامنے آ رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس ملک کے تعلیمی نظام کی بہتری کی باتیں کر رہے ہیں۔ جب ہم تعلیمی نظام کو اتنا بھی نہیں بنا سکے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ دماغوں کو شدت پسندانہ سوچ ترک کرنے پہ مائل کر سکتیں تو کیا فائدہ ایسے تعلیمی اداروں کا۔ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اگرحکومتی رٹ اتنی کمزور ہے کہ وفاق کے عین وسط میں کہی سو ایکٹر پہ پھیلی درسگاہ پہ بھی عملداری ثابت نہ کر پائے تو پھر ایسی درسگاہوں سے بانی پاکستان کا نام بھی ہٹا دیجیے اور اس کا انتظام و انصرام ان طالبعلموں کے ہاتھ میں ہی دے دیجیے کہ جو اتنے طاقتور ہیں کہ حکومتی مشینری سے بھی متھا لگائے بیٹھے ہیں اور کامیابی سے لگائے بیٹھے ہیں۔ اور اس درسگاہ کا نام قائد اعظم یونیورسٹی کے بجائے کچھ اور رکھ دیجیے کیوں کہ قائد کے افکار میں نہ تو یہ تھا کہ طالبعلم سیاسی انداز میں یونیورسٹی بند کر دیں۔ نہ ہی وہ یہ چاہتے تھے کہ حکومت اپنے مرکز میں ہی بے بس ہو جائے۔ لہذا قائد کا نام ہٹا دیجیے اس یونیورسٹی کے ماتھے سے کہ جس پہ آپ کا اختیار ہی ثابت نہیں ہے۔

 

quaid e azam

Social Issue

تبولا

Tabool ads will show in this div

تبولا

Tabool ads will show in this div