کالمز / بلاگ

دینا جناح سے میرا رشتہ

کسی بھی انسان کے لیے دنیا میں سب سے انمول چیز اُس کی اولاد ہوتی ہے، جس کے لیے انسان اپنا سب کچھ تیاگ دیتا ہے لیکن اگر کوئی انسان اِس انمول رشتے کو بھی انسانی بھلائی کے واسطے چھوڑ دے اور ایک عظیم مقصد کے لیے اولاد جیسی نعمت کی قربانی دیدے تو پھر اُس سے بڑا عظیم انسان دنیا میں کوئی ہو نہیں سکتا، ایسے لوگ قوموں کی نظر میں صرف قائد نہیں قائد اعظم کا درجہ رکھتے ہیں، جو اُن کے لیے صرف رہنمائی کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کے نجات دہندہ بن کر تاریخ کے پنوں میں ہمیشہ ہمیشہ کےلیے امر ہوجاتے ہیں۔

اِسے حسین اتفاق کہئیے یا کچھ اور کہ جس دن پاکستان اور ہندوستان انگریز سرکار سے آزادی حاصل کرکے دو الگ الگ خودمختار ریاستوں کے طور پر معروضِ وجود میں آئے ٹھیک اٹھائیس سال پہلے اُسی دن 14 اور 15 اگست 1919 ء کی درمیانی شب قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے گھر ایک ننھی اور پیاری سی کلی کا جنم ہوا، جو آزادی کا نشان بن کر قائد کے آنگن میں اتری تھی، قائداعظم نے اپنی اِس ننھی کلی کا نام دینا جناح رکھا تھا۔

بدقسمتی سے جب دینا نو برس کی تھیں اُنکی والدہ رتن بائی اِس دنیا سے کوچ کر گئیں، قائد اعظم نے اپنی بیوی رتن بائی کے انتقال کے بعد اپنی اکلوتی بیٹی کی پرورش کا ذمہ اٹھاتے ہوئے ان کی تربیت اپنے انداز میں کرنا چاہی لیکن پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیاں آڑے آگئیں. جس کے بعد دینا زیادہ تر اپنی نانی کے گھر رہنے لگیں. لیکن باوجود اِس کے انھوں نے دینا کی بہتر پرورش کےلیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، دینا نے ابتدائی تعلیم تو بمبئی کے ایک اسکول میں حاصل کی لیکن اعلی تعلیم کے لیے قائد اعظم نے دینا کو لندن بھیج دیا تھا. اور بعد میں کچھ عرصے کےلیے خود نے بھی لندن میں سکونت اختیار کرلی تھی، دینا اپنے والد سے بہت محبت کرتی تھیں. جبکہ قائداعظم بھی انتہائی شفقت سے پیش آتے تھے. دونوں نے کافی عرصہ لندن میں ایک ساتھ وقت گزارا. لیکن پھر قائداعظم مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے ہندوستان آگئے. جبکہ دینا اپنی تعلیم جاری رکھتے ہوئے لندن میں مقیم رہیں. 1934 ء میں جب دینا تعلیم مکمل کرکے ہندوستان واپس آئیں تو اُس وقت قائد اعظم برصغیر کے مسلمانوں کےلیے ایک الگ آزاد اسلامی ریاست کی جدوجہد میں انتہائی مصروف تھے. لہذا دینا زیادہ تر وقت اپنے ننھیال میں گزارنے لگیں. چونکہ دینا کے ننھیال کا تعلق پارسی مذہب سے تھا. وہاں انکی دوستی ایک مشہور صنعت کار نیول واڈیا سے ہوگئی جو کہ پارسی مذہب سے تعلق رکھتے تھے. جب دوستی محبت میں بدلی اور بات شادی تک پہنچی تو قائد اعظم نے اِس کی سخت مخالفت کی۔ قائد اعظم اُس وقت ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد میں مصروفِ عمل تھے. جس کے باعث قائد اعظم کے مخالفین میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھا. وہ نہیں چاہتے تھے کہ دینا کے اِس اقدام سے مخالفین کو اُن کی کردار کشی کا کوئی ایسا موقع ہاتھ لگے جس کے باعث ہندوستان کے مسلمانوں کےلیے ایک آزاد ریاست کا خواب ادھورا رہ جائے۔

والد کے ہر طرح سے سمجھانے کے باوجود جب دینا نے نیول واڈیا سے شادی کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا تو قائد اعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کے عظیم تر مفاد میں اپنی اکلوتی بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کردیا لیکن ستم بالائے ستم یہ کہ اِتنی بڑی قربانی کے بعد بھی قائد اعظم کے مخالفین اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہ آئے اسلامی مملکت کے قیام کےلیے دی گئی بیش بہا قربانیوں کے باوجود انھیں کافرِ اعظم کے القابات سے نوازا گیا۔

دینا نے نیول واڈیا سے شادی تو کی لیکن وہ شادی پانچ سال سے زیادہ عرصہ نہ چل سکی. اور دونوں میں علیحدگی ہوگئی. علیحدگی کے وقت دینا کے دو بچے تھے، ایک بیٹا نسلی واڈیا اور ایک بیٹی ڈیانا واڈیا جن کی پرورش دینا نے خود کی۔

دینا اپنے والد کےلیے ہمیشہ فکر مند رہتی تھیں. وہ جانتی تھیں کہ خونی رشتے اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتے. تاریخی حوالوں سے پتا چلتا ہے کہ انھوں نے اپنے والد محمد علی جناح سے بمبئی کے ایک مشہور رستوران میں ملاقات بھی کی تھی. اِس کے علاوہ خط و خطابت کے ذریعے بھی دونوں کے درمیان رابطے ہوا کرتے تھے۔

قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم شدید علیل ہوگئے تھے. وہ ٹی بی جیسے موذی مرض سے لڑ رہے تھے. گیارہ ستمبر 1948 ء کو جب قوم کا عظیم قائد اِس جہانِ فانی سے کوچ کرگیا تو انکے آخری دیدار کےلیے دینا کو خصوصی طیارے کے ذریعے انڈیا سے پاکستان لایا گیا. وہ اپنے والد کی قبر پر بس زاروقطار روئے جارہی تھیں. اُس کے بعد دینا نے پاکستان کا کبھی رخ نہیں کیا. ہاں البتہ 2004 ء میں انڈیا پاکستان کا کرکٹ میچ دیکھنے وہ 56 سال بعد پاکستان تشریف ضرور لائی تھیں. جہاں انھوں نے اپنے والد کی قبر پر حاضری بھی دی تھی۔

دو نومبر 2017 بروز جمعرات کو 98 برس کی عمر میں عظیم قائد کی اِس بیٹی کے انتقال کی خبر نے مجھ سمیت تمام پاکستانیوں کو افسرده کردیا. دل چاہ کے آج قائد کی قبر سے لپٹ کر روؤں. پاکستان میں سوشل میڈیا پر بعض حلقے حکومت پاکستان سے دینا جناح کا جسدخاکی نیویارک سے پاکستان لاکر قائداعظم کے پہلو میں دفنائے جانے کی درخواست کررہے ہیں. جس پر غور کرنا حکومت کا کام ہے. جبکہ پاکستانی عوام کا ماننا ہے. دینا جناح کی تدفین چاہے جہاں بھی ہو. اُنکا رشتہ بھلے ہی پاکستان سے نہ جڑا ہو. لیکن پاکستانی قوم کا اپنے قائد کی نسبت ان سے رشتہ ہمیشہ جڑا رہے گا. اور وہ ہمیشہ اپنے عظیم والد کے ساتھ ہمارے دلوں میں دھڑکتی رہیں گی۔

 

quaid e azam

Mohammad Ali Jinnah

twitter reaction

Dina Wadia

Tabool ads will show in this div