پیراڈائز پیپرز، سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

[video width="1280" height="720" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/11/paradise.mp4"][/video]

واشنگٹن : پاناما لیکس کے بعد آئی سی آئی جے نے پیرڈائز لیکس کے نام سے مزید خفیہ دستاویز جاری کرکے ایک اور بڑا دھماکا کردیا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی سیاست پر راتوں رات دھماکے کرنے والا پیراڈائز پیپرز سوشل میڈیا کا ٹپ ٹرینڈ بن گیا۔ لیکس میں پاکستان سمیت دنیا کی کئی معروف شخصیات اور کمپنیوں کے نام شامل ہیں۔

گزشتہ برس جاری ہونے والے پاناما پیپرز پاناما کی مشہور لاء فرم موزیک فونسیکا کی دستاویزات پر مبنی تھے لیکن اب جاری ہونے والے پیراڈائز پیپرز کمپنی ’’ایپل بائی‘‘ کی دستاویز پر مشتمل ہیں۔ پاکستان سے سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور این آئی سی ایل کے سابق سربراہ کا نام سر فہرست ہے۔ سماجی رابطوں کی سائٹس پر پیراڈائز پیپرز اور پاکستانیوں کے نام سامنے آنے پر متعلق مختلف لوگوں نے ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔

نئی دستاویزات کے مطابق شوکت عزیز نے ایک غیر اعلانیہ ٹرسٹ میں اس وقت پیسے چھپائے جب وہ ملک کے وزیراعظم تھے۔

پاکستانیوں کے حوالے سے ملنے والا بیشتر ریکارڈ برمودا، برٹش ورجن آئی لینڈ، کیمین آئی لینڈ، مالٹا اور دیگر ملکوں سے ملا ہے۔ نیشنل انشورنس کارپوریشن لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی، صدر الدین ہاشوانی، میاں منشاء، ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) لائسنس کی کامیاب بولی دینے والے، ظہیر الدین، سونیری بینک کے مالک نورالدین فیراستا، چیئرمین داؤ ہرکولیس کارپوریشن حسین داؤد اور دیگر نامور پاکستانیوں کی شناخت سامنے آئی ہے جنہوں نے آف شور سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

 

نئی لیک ہونے والی دستاویزات کو ’’پیراڈائز لیکس‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور ان کی وجہ سے دنیا کے کئی دارالحکومت ہل گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ایک کروڑ 34؍ لاکھ دستاویزات جاری کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ارب پتی وزیر تجارت کے روسی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کیلئے فنڈ جمع کرنے والے سرکردہ شخص کی خفیہ سرمایہ کاری، ملکہ برطانیہ اور ملکہ اردن اور دنیا بھر کے 120؍ سیاست دانوں کی آف شور سرمایہ کاری کے حوالے سے سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔

 

پیراڈائز لیکس میں پاکستانیوں کی طرح 714 بھارتیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

 

ان دستاویزات میں سوشل میڈیا کی معروف سائٹس جیسا کہ ٹوئٹر اور فیس بُک کو بھی اسکروٹنی کے دائرے میں لایا گیا ہے جنہوں نے روس کی سرکاری کمپنیوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، یہ بات ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب امریکی کانگریس ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے جعلی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔ ان خبروں نے امریکی صدارتی الیکشن پر فیصلہ کن اثر مرتب کیا تھا۔

ان دستاویزات کے ذریعے عوام کو یہ معلومات بھی مل سکیں گی کہ کس طرح ایپل، اوُبر، نائیکی اور دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کو یہ سہولتیں دی گئی ہیں کہ وہ آف شور کمپنیوں کو اپنا منافع منتقل کرکے ٹیکس سے بچ سکتی ہیں۔ نئی جاری ہونے والی دستاویزات جرمن اخبار سودوش زائتونگ نے حاصل کیں اور انہیں بین تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم (آئی سی آئی جے) کے ساتھ اور دنیا کے 67؍ ملکوں کے 380؍ دیگر صحافیوں کے ساتھ شیئر کیا۔

 

یہ دستاویزات آف شور خدمات فراہم کرنے والی دو کمپنیوں کی جانب سے سامنے آئی ہیں، یہ کمپنیاں برمودا (ایپل بی) اور سنگاپور (ایشیاٹک ٹرسٹ) ہیں۔ لیک کی گئی فائلوں میں کیریبین، پیسفک اور یورپ جیسا کہ اینٹیگا اور باربوڈا، دی کُک آئی لینڈ اور مالٹا میں دنیا کے انتہائی خفیہ کارپوریٹ مقامات کی سرکاری کاروباری رجسٹریاں شامل ہیں۔ان ڈیٹا بیسز میں دنیا کی مصروف ترین خفیہ حدود کی دستاویزات کا پانچواں حصہ شامل ہے۔

تقریباً 135؍ ایسے پاکستانیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کے اپنے نام سے یا پھر آف شور کمپنیوں کے نام سے سوئس بینکوں میں اکائونٹس موجود ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا نام دو ٹرسٹ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان میں سے ایک ٹرسٹ سٹی بینک بہاماس نے قائم کیا تھا جس میں وہ ڈائریکٹر تھے۔ اس ٹرسٹ کا نام سٹی ٹرسٹ لمیٹڈ تھا۔ یہ ٹرسٹ اس وقت قائم کی گئی تھی جب وہ اسی بینک میں ایگزیکٹو تھے۔

 

ایک اور ٹرسٹ جو انہوں نے خود قائم کی تھی اس کا نام اینٹارکٹک ٹرسٹ تھا جس کے بینیفشری ان کی اہلیہ رخسانہ عزیز اور تین بچے عابد عزیز، ماہا عزیز، لبنیٰ خان اور تانیہ خان (پوتی) ہیں۔ وزیر خزانہ بننے سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے یہ ٹرسٹ امریکی ریاست ڈیلاویئر میں قائم کی تھی جس کے انتظامات برمودا سے سنبھالے جا رہے تھے۔ شوکت عزیز نے اس ٹرسٹ کا ذکر وزیر خزانہ بننے کے وقت کیا اور نہ ہی وزیراعظم بننے کے وقت۔ اس ٹرسٹ کو ایپل بی لا فرم نے ’’ہائی رسک‘‘ (انتہائی پر خطر) کلائنٹ قرار دیا تھا۔

نیویارک میں اپنے وکیل کے توسط سے بات کرتے ہوئے شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان میں اس ٹرسٹ کا اعلان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ اس ٹرسٹ کے سیٹلر تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ان کی اہلیہ اور بچے نے اس کا ذکر کیا؟ تو شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ انہیں بھی یہ ٹرسٹ ظاہر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ بینیفشری تھے نہ کہ بینیفشری اونرز (مالکان)۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

 

ان کے وکیل نے کہا کہ مسٹر عزیز نے اینٹارکٹک ٹرسٹ وزیر خزانہ بننے سے تھوڑا عرصہ قبل قائم کی تھی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اگر وہ مر جاتے ہیں تو ان کے اثاثے پرسکون انداز سے ان کے اہل خانہ کو مل سکیں۔ چونکہ پاکستان میں خدمات انجام دینے کے دوران ان پر ایک سے زیادہ مرتبہ جان لیوا حملہ ہو چکا تھا اس لئے ان کے خدشات بجا تھے۔

 

ایاز خان نیازی کا نام برٹش آئی لینڈ میں چار آف شور کمپنیوں بشمول ایک ٹرسٹ (اندلسین ڈسکریشنری ٹرسٹ) کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ باقی تین کمپنیوں کی حیثیت میں قائم کی گئیں جن میں اندلیسن اسٹیبلشمنٹ لمیٹڈ، اندلسین انٹرپرائزز لمیٹڈ اور اندلسین ہولڈنگز لمیٹڈ۔ یہ تمام کمپنیاں اور ٹرسٹ اس وقت قائم کی گئیں جب 2010ء میں ایاز خان این آئی سی ایل کے چیئرمین تھے۔

 

ان کے دو بھائی حسین خان نیازی اور محمد علی خان نیازی ان سرمایہ کاریوں میں بینیفشل اونرز تھے جبکہ ایاز اپنے والد عبدالرزاق خان اور اپنی والدہ فوزیہ رزاق کے ساتھ ڈائریکٹر تھے۔ پاکستان میں ہوٹلز اور تیل کی صنعت سے وابستہ ایک بڑی کاروباری شخصیت صدر الدین ہاشوانی کی بارباڈوس اور کیمین آئی لینڈ میں ایک ایک کمپنی ہے جن کے نام بائو انرجی ریسورسز (پاکستان) ایس آر ایل اور اوشن پاکستان لمیٹڈ ہیں۔

 

نشاط گروپ کے چیئرمین میاں محمد منشا کا تعلق 6؍ آف شور کمپنیوں کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ ان میں سے چار ورجن آئی لینڈ میں ہیں جن کے نام یہ ہیں، مالین سیکورٹیز لمیٹڈ، میپل لیف انوسٹمنٹ لمیٹڈ، لائل ٹریڈنگ لمیٹڈ، ڈولین انٹرنیشنل لمیٹڈ۔ باقی دو کمپنیاں ماریشس میں ہیں جن کے نام کروفٹ لمیٹڈ اور بیسٹ ایگلز ہولڈنگز انکارپوریٹڈ ہیں۔ ان کمپنیوں کے ساتھ جڑے ایک سوئس بینک کا حوالہ بھی سامنے آیا ہے جو 1994ء کا ہے اور یہ اکاؤنٹ 2007ء تک قائم تھا۔ میاں منشا کے مطابق 1990ء کی دہائی میں پاکستان کی سنگین سیاسی صورت حال کی وجہ سے امریکا منتقل ہونا پڑا تھا۔ یہ بینک اکاؤنٹ اس وقت روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کیلئے تھا۔ بالآخر، تقریباً ایک دہائی بعد یہ اکاؤنٹ ختم کرکے رقم باضابطہ ذرائع سے پاکستان منتقل کر دی گئی تھی اور ان کا حوالہ ٹیکس ریٹرنز میں بھی موجود ہے۔

 

علاؤ الدین جے فیراستا، سونیری بینک کے چیئرمین ہیں اور وہ برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ایک کمپنی رینج ورتھ لمیٹڈ کے مالک ہیں۔ ان کے بھتیجے اور روپالی پولی ایسٹر لمیٹڈ کے چیئرمین نے بھی برٹش ورجن آئی لینڈ میں ایک کمپنی قائم کی ہے جس کا سوئس بینک میں ایک اکائونٹ ہے۔ دونوں نے دی نیوز کے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ امریکی عدالت میں منی لانڈرنگ کے جرم کا اعتراف کرنے والے عبید الطاف خانانی کا بھی سوئس بینک میں اپنی والدہ کے ساتھ ایک مشترکہ اکاؤنٹ سامنے آیا ہے۔

   

حسین داؤد کو آئیل آف مین میں رجسٹرڈ کمپنی سے تعلق میں شناخت کیا گیا تھا، اس کمپنی کانام ہرکولیس انٹرپرائزیز لمیٹیڈ تھا اور اس کے سوئس اور فرینچ بینکوں میں دو کھاتے بھی تھے۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے بزنس مین ظہیر الدین جو ڈی ٹی ایچ لائسنس حاصل کرنے والے تین افراد میں سے ایک تھے، وہ برٹش ورجن آئی لینڈ میں تین کمپنیوں کے مالک تھے اور بینک آف برمودا اور ایچ ایس بی سی برمودا مین ان کے دو اکاؤنٹس تھے اور جب پیمرا میں ڈی ٹی ایچ کی بولی کیلئے کاروبار کی تفصیلات جمع کرائی گئی تھیں تو ان میں سے کسی کا بھی انہوں نے بزنس پروفائل میں اعلان نہیں کیا تھا۔

ماریشس میں قائم ایک آف شور کمپنی "بال یاسنے ایس آئی" لمیٹیڈ نے ڈیلی ٹائمز اخبار میں سرمایہ کاری کی تھی۔ یہ کمپنی مکمل طور پر شکتی ماسٹر فنڈ ایل پی کی سبسیڈری ہے۔ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے 2011 ء میں "بال یاسنے ایس آئی" کے حصص کے بینی فشل اونرشپ کے بارے میں معلومات طلب کی تھیں جس کا یہ جواب موصول ہوا تھا کہ کمپنی حصص کی بینی فشل مالک ہے۔ اس نے پیس پاکستان کے حصص بھی خریدے تھے، جو تاثیر خاندان کی ملکیت ہے۔ اسماعیلی برادری کے روحانی رہنما اور برطانوی شہری پرنس کریم آغا خان ریکارڈ میں دو وجوہات کی بنا پر سامنے آئے۔

 

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربائی کا کہنا ہے کہ پیراڈئز پیرپز کے ذریعے مزید ثبوت سامنے آنے کا بعد یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امیروں کیلئے الگ اور باقی دینا کیلئے قانون ہے۔

امریکا کے فور اسٹار جنرل اور ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے صدارت کے لئے پرامید ویزلے کلارک آن لائن جوا کمپنی کے ڈائریکٹر تھے جس کی آف شور معاون کمپنیاں تھیں۔ ویزلے یورپ میں ناٹو کے سپریم کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ دی ایپل بائے فائلز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے کامرس سیکرٹری ولبر رووس ایک شپنگ کمپنی نیویگیٹر ہولڈنگز کے مالی اثاثوں کی دیکھ بھال کے لئے ’’کےمین آئی لینڈ‘‘کے ایک پورے سلسلے کو استعمال کر چکے ہیں، اس کمپنی کے اعلی ترین صارفین میں روسی حکومت سے وابستہ انرجی فرم سیبر بھی شامل ہے جس نے نیویگیٹر ہولڈنگز کو 2016 میں 23 ملین ڈالر سے زیادہ ادا کیے تھے۔

واضح رہے کہ پیراڈائز پیپرز میں 47 ممالک کے 127 نمایاں افراد کے نام شامل ہیں، پیراڈائز لیکس میں ایک کروڑ 34 لاکھ دستاویزات شامل ہیں اور اس کام کے لیے 67 ممالک کے 381 صحافیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔

پیراڈائز لیکس کا بڑا حصہ کمپنی ایپل بائی کی دستاویزات پر مشتمل ہے اور یہ دستاویزات سنگاپور اور برمودا کی دو کمپنیوں سے حاصل ہوئی ہیں۔ پیرا ڈائز پیپرز پہلے جرمن اخبار نے حاصل کیے اور آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیے۔

 

ان میں 180 ممالک کی 25 ہزار سے زائد کمپنیاں، ٹرسٹ اور فنڈز کا ڈیٹا شامل ہے، پیراڈائز پیپرز میں 1950ء سے لے کر 2016 تک کا ڈیٹا موجود ہے۔

 

پیراڈائز پیپرز میں جن ممالک کے سب سے زیادہ شہریوں کے نام آئے ہیں ان میں امریکا 25 ہزار 414 شہریوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ برطانیہ کے 12 ہزار 707 شہری، ہانگ کانگ کے 6 ہزار 120شہری، چین کے 5 ہزار 675 شہری اور برمودا کے 5 ہزار 124 شہری شامل ہیں۔ سماء

mian mansha

indian

TOP TREND

Shaukat Aziz

Amitabh Bachchaan

sanjay dutt wife

paradise papers

Tabool ads will show in this div