خوش آمدید کرکٹ؛ شکریہ سری لنکا

تحریر: افضال فاروقی

سری لنکا نے پاکستان کا دورہ کرکے شائقین کرکٹ کے دل جیت لئے ہیں۔ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی جانب قدم بڑھنے لگے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتھک محنت رنگ لے آئی ہے۔ پاکستان میں تقریبا 15 برس قبل نیوزی لینڈ کے دورے کےموقع پر کراچی میں اس وقت شدید دھماکا ہوا جب نیوزی لینڈ کی ٹیم اسٹیڈیم جانے کےلیے بس میں سوار ہورہی تھی۔ اس واقعے میں نیوزی لینڈ کے کھلاڑی بال بال بچ گئے تھے۔ واقعے میں فرانسیسی انجینیئرز کی بس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے نے اگرچہ کرکٹ کے مقابلے پاکستان میں کروانے کےلیے مشکلات پیدا کیں مگر حالات جلد قابو میں آگئے۔

اس کےبعد مارچ 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر اس وقت حملہ کیا گیا جب ٹیم ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز ہوٹل سے اسٹیڈیم جارہی تھی۔ واقعے میں پولیس وارڈنز جان سے گئے۔ پاکستان میں اس واقعے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے۔ پاکستان سے تمام بڑے مقابلوں کی میزبانی واپس لے لی گئی۔ پاکستان نے اس کے بعد اپنی تمام ہوم سیریز بیرون ملک کھیلیں۔ متحدہ عرب امارات پاکستان کا ہوم گراؤنڈ ٹہرا۔ بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی موجودگی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ فیصلہ کیا اور دبئی، شارجہ اور ابوظبی کے اسٹیڈیمز آباد ہوگئے۔ پاکستان نے ان گراؤنڈز پر انگلینڈ، جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کو شکست دی۔ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں بھی ان میدانوں پر پاکستان کو زیر نہ کرسکیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملک میں کرکٹ واپس لانے کےلیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ آئی سی سی کی جانب سے متعدد بار پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کے اعلانات کئے گئے مگر اس حوالے سے کوئی خاص بڑی پیش رفت نہ ہوسکی۔ پاکستان نے اپنی پہلی کرکٹ لیگ، پی ایس ایل کا انعقاد بھی متحدہ عرب امارات میں کیا۔ دوسرے ایڈیشن کے تمام مقابلے بھی متحدہ عرب امارات کے میدانوں پر ہوئے۔ تاہم اس لیگ کا فائنل لاہور میں 5 مارچ کو کھیلا گیا۔ اس فائنل نے پاکستان میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد کا طبل بجادیا۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی گئی۔ انہوں نے پاکستان میں اپنے قیام کو بھرپور انجوائے کیا اور ہر فورم پر پاکستان کی میزبانی کو سراہا۔

جون 2017 میں پاکستان نے انگلینڈ میں بھارت کو شکست دے کر آئی سی سی چیمیئنز ٹرافی اپنے نام کی تو پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کی آوازیں زور پکڑنے لگیں۔ شائقین کرکٹ نے پاکستان کو بڑے مقابلوں کی میزبانی دوبارہ دینے پر اسرار کیا۔ پی سی بی کی بےمثال کوششوں سے آئی سی سی کا وفد پاکستان آیا اور ستمبر میں آئی سی سی ورلڈ الیون کی پاکستان آنے کی نوید سنادی گئی۔ ورلڈ الیون نے لاہور میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے۔ ان میچوں کے موقع پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات تھے۔ سیکورٹی کے باوجود شائقین کرکٹ نے ان مقابلوں میں گہری دلچسپی لی اور انھیں انجوائے کیا۔

پاکستان کے پاس ملک میں کرکٹ کی بحالی کا جواز پیدا ہوگیا۔ سری لنکا کو اس بات پر قائل کیا گیا کہ وہ ایک ٹی ٹوئنٹی میچ پاکستان میں کھیلے۔ سری لنکن بورڈ نے اپنی حکومت کی اجازت اور آئی سی سی کی گائیڈ لائن کی روشنی میں لاہور کے دورے کےلیے حامی بھرلی۔ پاکستان میں بسنے والے کرکٹ کے مداحوں کو اس میچ کا شدت سے انتظار تھا۔ سری لنکن ٹیم نے پاکستان آکر دل جیت لئے۔ انھوں نے اگرچہ ون ڈے سیریز اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش شکست کھائی مگر وہ کروڑوں پاکستانیوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس دورے کے بعد پاکستان میں مزید کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلوں کا امکان بھی پیدا ہونے لگا۔ امکان ہے کہ نومبر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کرے گی۔ اس دورے میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جاسکتے ہیں۔ پاکستان میں کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلے اب رکنے والے نہیں ہیں۔ پاکستان میں کرکٹ جیت گئی اور دہشت گردی کو شکست دے دی گئی۔ شائقین کرکٹ پرامید ہیں کہ پاکستان کے میدان پھرآباد ہوجائیں گے اور عالمی سپر اسٹارز یہاں آخر اپنی صلاحیت کے جوہر دکھائیں گے۔

INTERNATIONAL CRICKET

West Indies

Tabool ads will show in this div