نوجوانوں کی زندگیوں میں زہر گھلتا ۔ ۔ ۔ نشہ

تحریر: شکیلہ شیخ

حال ہی میں ہمارے چند دوستوں نے مل کر منشیات کے خلاف ایک مہم شروع کی ہے جسے انہوں نے ”سے ۔ نو ۔ ٹو ۔ ڈرگز“ کا نام دیا ہے، پہلے ہم صرف سنتے تھے کہ اتنے لوگ منشیات کی وجہ سے مر گے یا اپنا گھر بار چھوڑ کر پلوں اور فٹ پاتھ پر دنیا و مافیا سے بے خبر اپنی زندگی کے بقیہ دن گزار رہے ہیں تو معاشرے کے دردمند لوگ افسوس کرتے ر ہ جاتے، لیکن جب ہم نے اس مہم پر کام شرو ع کیا تو ہم حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشانی میں مبتلا ہو گئے کہ ہمارے وطن عزیز میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد سات ملین ہے اور نشے کی یہ عادت ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ ہلاکتوں کی وجہ بنتی ہے اور یہ افراد مختلف طریقے سے یہ زہر اپنے جسموں میں انڈیل رہے ہیں۔ کوئی انجکشن کے ذریعہ تو کوئی سگریٹ میں ڈال کر پیتے ہیں، کچھ افراد تو اپنے ہاتھ میں کٹ لگا کر اس میں ڈرگ بھر تے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ وہ ایک گول ٹکیا کو اپنے سر پر رکھتے ہیں اور اس ٹکیا کو ٹوکن کہا جاتا ہے۔ اس عذاب میں ہر طبقے کے افراد مبتلا ہیں جس میں زیادہ تر تعداد طالب علموں کی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں منشیات فروشوں نے ایلیٹ کلاس کے کالجز اور جامعات میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو آن لائن منشیات کی فروخت شروع کر دی، یہ کاروبار گذشتہ 7 ماہ سے بڑی کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ منشیات فروخت فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے آرڈر لے کر مہلک ترین نشہ آئس پاوڈر، کوکین، ہیروئن اور چرس سپلائی کرتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف پولیس کی جانب سے منشیات فروشوں کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا جو ڈیفنس، کلفٹن، سوسائٹی اور دیگر پوش علاقوں میں رہنے والے نوجوانوں کو آن لائن منشیات فروخت کرتے تھے۔ ڈرگز کا استعمال کرنے والوں میں زیادہ تعداد طلبہ کی ہے جو کراچی کے مختلف کالجز اور جامعات میں زیر تعلیم ہیں۔

اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ ہماری خواتین جو ہر شعبہ میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں اس کام میں وہ کیسے مردوں سے پیچھے رہ سکتی ہیں۔ زیادہ تر ڈرگز کا استعمال ہماری طالبات کرتی ہیں۔ لڑکیاں کیوں زیادہ ڈرگز استعمال کرتی ہیں اس بارے میں ہماری با ت کراچی کی ماہر نفسیات عظمیٰ یامین سے ہوئی۔ انہوں نے بتایا بڑے گھرانوں کی لڑکیاں نشہ آور اشیاء کا استعمال وزن کم کرنے کی غرض سے شروع کرتی ہیں اور پھر اس کی عادی بن جاتی ہیں جبکہ لڑکے اسے شوق میں استعمال کرتے جو بعد میں ان کی زندگی کی آخری سانسوں پر ختم ہوتا ہے، کچھ ذہنی دباﺅ میں آکر شروع کر تے ہیں، بعض گھرانے اپنے بچوں کا علاج کر وانے سے کتراتے ہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کی بدنامی ہوگی۔ بدنامی کی وجہ سے اپنے بچوں کا علاج نہ کروانا ان کی زندگی ختم کرنا ہے۔

خدارا آپ اپنے بچوں کا علاج کرواے۔ نہ صرف اپنے بچوں کا بلکہ اپنے اردگرد کے لوگ جو اس مرض میں مبتلا ان کو بھی آمادہ کرے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو اس لت میں مبتلا ہونے سے روکنا ہوگا۔ ہم بہت سے ایسے نشہ کرنے والے سے بھی ملے ہیں جو اس دلدل سے باہر آنا چاہتے ہیں اور ایک مثبت زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اس لعنت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ کوئی انکی مدد کرنے والا نہیں۔ اینٹی نارکوٹیکس فورس کے تحت لیاری میں ایک ہسپتال کام کر رہا ہے جو منشیات کے عادی لوگوں کا علاج معالجہ فری مہیا کر رہا ہے۔ ہم سب کو چاہئے کہ ان منشیات کے خلاف اپنے گلی، محلے میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مہم شروع کریں۔ اس کے علاوہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں زیادہ سے زیادہ آگاہی کے لئے ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کریں۔ اس حوالے سے منشیات کے عادی لوگوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔ ہم منشیات فروخت کرنے والوں کو نہیں روک سکتے کم از کم پینے والوں کو روک سکتے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کی نہیں ہم ہزاروں لوگوں کی تو اصلاح کر سکتے ہیں۔ خدارا اپنے اردگرد اپنے پیاروں پر نظر رکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے اور ساری عمر کا پچھتاوا ہمارا مقدر بن جائے۔

girls

colleges

Drugs Adict

Tabool ads will show in this div