بڑےآپریشن سےنجات،مذاکرات بحالی،نثارسمیع الحق میں خفیہ رابطے

Nov 30, -0001

ویب ڈیسک:
اسلام آباد : حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکراتی عمل کی بحالی کے لئے خفیہ رابطے بھی جاری ہیں۔ مولانا سمیع الحق سے وزیر داخلہ چوہدری نثارکی بات چیت ہوئی، خیال کیا جا رہا ہے کہ دونوں جانب سے اتفاق رائے ہوتے ہی جنگ بندی کا اعلان ہوسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کی امید پر بڑی کارروائی نہیں کی گئی۔

حکومت اور کالعدم طالبان میں مذاکراتی ڈیڈ لاک ضرور ہے مگر رابطے ٹوٹے نہ امن کی امیدوں نے دم توڑا ہے، ذرائع کے مطابق حکومت اور کالعدم طالبان مذاکرات میں تعطل کے باوجود وزیر داخلہ قیام امن کے لئے پوری طرح سرگرم ہیں، ان کا نہ صرف مولانا سمیع الحق سے قریبی رابطہ ہے،، بلکہ ان تمام افراد سے بھی رابطے میں ہیں جو قیام امن کے لئے کردار ادا کر سکتے ہیں۔

خفیہ رابطہ کاری پر طالبان کے خلاف لارج اسکیل کارروائی کے بجائے صرف مخصوص علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ذرائع نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ خاموش مذاکرات کی بیل منڈیر چڑھی تو مکمل جنگ بندی ہوسکتی ہے، اتفاق رائے ہوتے ہی فریقین جنگ بندی کا اعلان کرسکتے ہیں، حکومتی جنگ بندی کا اطلاق صرف قبائلی علاقوں پر ہوگا، تاہم کراچی میں دشمن عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا۔  دونوں رہنماؤں کے درمیان دونوں کمیٹیوں کی جانب سے بیان بازی سے گریز اور عملی اقدامات کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سیاسی شوریٰ کے رکن اعظم طارق نے بھی پروفیسر ابراہیم سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ جنگ بندی کیلئے تیار ہیں، لیکن ساتھیوں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آئین پاکستان کے بجائے مذاکرات قرآن و سنت کے تحت کیے جائیں۔ سماء

میں

season

professional

Tabool ads will show in this div