روس پھر سے عالمی منظر نامے پر

تحریر : کامران اسلم ہوت

دنیا میں بہت سی جنگیں لڑی گئیں لیکن ان تمام جنگوں میں پہلی جنگ اور دوسری جنگِ عظیم قابلِ ذکر ہیں۔ان دو جنگوں نے دنیا کوتباہی و بربادی کے سواکچھ نہ دیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد ایک اور جنگ شروع ہوئی جو دوسری جنگِ عظیم کے دو فاتح ممالک سویت یونین اور امریکہ کے درمیان لڑی گئی تھی ۔اسے دنیا " سرد جنگ" سے یاد کرتی ہے۔ اس لیے یہ روایتی جنگ سے مختلف تھی کیوں کہ یہ ہتھیاروں سے زیادہ سفارتی اور معاشی محاذ پر لڑی گئی۔ اس جنگ نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔ سویت یونین کا اثر وروسوخ تقریباً آدھی سے زیادہ دنیا پر محیط تھا ۔ سویت بلاک سے تعلق رکھنے والے امریکی بلاک والوں سے نفرت کرتے تھے اور امریکی بلاک والے سویت بلاک والوں سے ۔ یہ جنگ چار دہائیوں تک لڑی گئی جس کا اختتام سویت یونین کے انہدام کے بعد ہوا۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سویت یونین اپنے بڑے وسیع و عریض رقبے سے سمٹ کر رشین فیڈریشن تک محدود گیا تھا ۔ سویت یونین میں شا مل کئی ممالک نے آزادی حاصل کر لی تھی اس کے علاوہ بھی کئی ممالک جو سویت یونین کا حصہ نہ تھے لیکن اس کے زیرِ اثرتھے وہ بھی نکل گئے۔ سویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد ریشن فیڈریشن کی معیشت بھی تقریباً زمین بوس ہوگئی تھی ہر طرف بے روز گاری، افلاس اور غربت نے ڈیرے ڈال دیے تھے اور باہر سے زیادہ روس کو اپنے گھر کی زیادہ فکر تھی۔ ان حالات میں روس کے پاس امریکہ کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ رہی اور امریکہ ہی دنیا میں واحد سپر پاو ر بن کر دنیا پر حکمرانی کرنے لگا۔

بیسوی صدی کے اختتام تک دنیا پر امریکہ کی بالادستی قائم رہی لیکن جیسے ہی یہ دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہوئی شروع میں ہی ایک بہت بڑا سانحہ رونما ہوا جسے " نائن الیون" کہا جاتا ہے ۔ نائن الیون کے بعد تو جیسے دنیا کے حالات یکسربدل گئے ۔امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا اور اس کے دو سال بعد عراق پر بھی حملہ کر دیا ۔ ان دو ممالک پر حملوں نے امریکی معیشت اور ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا ۔ان حالات سے روس کو بہت فائدہ ہوا او روہ ایک بار پھر سے دنیا کے منظر نا مے پر آنے کے لیے اپنی پالیسی ازسرنو ترتیب دینے لگا۔ پچھلے مہینے ترکی اور روس کے سربراہان کے درمیان ملاقات اور حالیہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا دورئہ روس نے عالمی سطح پر روس کے قدمیں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

تین دہائیوںسے اس دنیا پر صرف امریکہ کی حکمرانی چل رہی تھی، اس کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا لیکن روس کے دوبارہ عالمی منظرپر آنے سے امریکہ کے لیے مشکلات میں اضا فہ ہو اہے ۔ امریکہ کو ایک بار پھر روس کے چیلنجزکا سامنا ہے۔ کرائیما میں روس کے ساتھ الحاق کا ریفرنڈم اور شا می جنگ میں حکومت مخالف باغیوں پر فضائی بمباری اس بات کی عکاسی کرتی ہیںکہ مستقبل قریب میں ایک بار پھر دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے اور ساتھ ہی دنیا کو دو نئے بلاکس میںتقسیم آثار دکھائی دے رہے ہیںجس کے لیے کھلاڑیوں کو ترتیب دیا جا رہا ہے ۔ امریکہ کی یہی کوشش ہے کہ ایک بلاک کی سربرائی اسی کے پاس ہی رہے جیسے ماضی میںتھی اور دوسرے بلاک کی سربرائی کا فیصلہ ہو نا باقی ہے لیکن دوسرے بلاک کی سربرائی کے لیے سب سے مضبوط امیدوار روس ہی ہے ۔

Politics

RUSSIA

USA

cold war

USSR

Tabool ads will show in this div