کیا دہشت گرد صرف مسلمان ہے؟

دوہزار سترہ اکتوبر کے آغاز میں امریکی ریاست لاس ویگاس میں تاریخ کا خوفناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص نے کنسرٹ کے دوران عوام پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس میں 59 افراد ہلاک جب کہ 527 زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ امریکی تاریخ کا سب سے ہولناک واقعہ تھا۔ اس واقعہ کے بعد عالمی میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر تبصرے شروع ہوگئے کہ آیا یہ فائرنگ کا واقعہ داعش نے تو نہیں کیا؟؟ یا پھر اس واقعے کے پیچھے کوئی مسلمان تو نہیں؟؟ یہ تبصرے ہوتے رہے اور یہ طے کیا جانا تھا کہ آیا یہ "دہشت گردی" کا واقعہ ہے یا نہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ فائرنگ کرنے والا شخص کوئی مسلمان یا داعش کا کارندہ نہیں بلکہ ایک سفید فارم (غیر مسلم) شخص تھا جس نے کنسرٹ میں موجود 59 افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک جب کہ 527 کو زخمی کر دیا۔ امریکی پولیس کے مطابق ہوٹل کی 32 ویں منزل پر واقع کمرے کی کھڑکی سے ہزاروں افراد کے ہجوم پر فائرنگ کرنے والا اسٹیفن پیڈک سابق اکاؤنٹنٹ تھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ویران جگہ پر رہائش پذیر تھا جب کہ ایف بی آئی حکام نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ امریکی پولیس کو فائرنگ کے واقعہ میں "دہشت گردی" کے آثار نہیں ملے، البتہ حملہ آور طویل عرصے سے قتل عام کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ ایک بیان یہ بھی جاری کردیا گیا کہ ملزم کوئی "نفسیاتی" مریض لگتا تھا۔ بعدازاں ملزم نے بھی گولی مار کر خود کشی کرلی تھی اور ہوٹل سوئیٹ سے اسلحے کی بڑی کھیپ بھی پکڑی گئی۔

امریکا میں فائرنگ کا یہ واقعہ کوئی چھوٹا واقعہ نہیں تھا لیکن امریکی حکومت نے یہاں دوغلا پن کا مظاہرہ کیا اور اس سے توقع بھی کیا رکھی جاسکتی ہے۔ اگر فائرنگ کا یہی واقعہ کسی مسلمان یا مذہب اسلام سےتعلق رکھنےوالے شخص کی جانب سے کیا جاتا تب بھی کیا اس کےعمل کو"نفسیاتی" قراردیاجاتایا"دہشت گردی" کاعنوان دیاجاتا؟؟عموما مغربی ممالک میں اس قسم کےہونےوالےواقعات میں جو ملزم پکڑا جاتا ہے وہ بد قسمتی سے مسلمان ہی نکلتا ہے اور اسکا عمل دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن جب اس طرح کی قتل و غارت کسی غیر مسلم کی جانب سے کی جاتی ہے تو اس کا یہی عمل نفسیاتی یا ذہنی خرابی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے۔۔!! لاس ویگاس میں فائرنگ کے اس واقعہ پر چند غیر مسلم صحافیوں نے بھی امریکی حکومت اور متعلقہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ لاس ویگاس میں 50 سے زائد لوگوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کرنے والا اسٹیفن پیڈک اگر مسلم ہوا تو وہ دہشت گرد کہلائے گا، لیکن اگر عیسائی ہوا تو ذہنی خرابی کا معاملہ ہوگا۔

اس واقعے کے بعد سے لفظ "دہشت گردی" کی تشریح ضروری ہوگئی ہے۔ عالمی برادری کے ماہرین اس بات کو واضح کریں کہ "دہشت گردی" کس کوکہتےہیں اور اس کاکیامطلب ہوتاہےورنہ فائرنگ کےاس حالیہ واقعہ سےتوصرف یہی کہا اور سمجھا جا سکتا ہے کہ ایسا عمل اگر غیر مسلم کرے تو "نفسیاتی یا ذہنی خرابی کا مسئلہ" لیکن کوئی مسلمان اس عمل کا مرتکب ہوجائے تو "دہشت گردی"۔

AMERICA

MUSLIMS

mass shooting

Tabool ads will show in this div