بناسپتی گھی پرپابندی ؛متبادل کیاہوگا؟

تحریر:محمد لقمان

انیس سو ساٹھ سے پہلے پاکستان میں صرف گائے اور بھینس کے دودھ کو بلو کرمکھن تیار کیا جاتا اور بعد میں اس کوگھی کی شکل دے دی جاتی۔ جب گھروں میں کوئی ہنڈیا تیار ہوتی تودیسی گھی کی وجہ سے اشتہا انگیز خوشبو ہر سو پھیل جاتی۔ اس سے مزے کے پراٹھے بنتے اور مکئی کی روٹی بھی اس کے بغیر ادھوری رہتی۔ لیکن دنیا کی دیکھا دیکھی نباتاتی تیل سے بنے بناسپتی گھی نے جگہ بنانی شروع کردی۔ جس کا خام مال ہزاروں میل دور ملائشیا اور انڈونیشیا میں کاشت کیے گئے پام آئل کے درخت تھے۔ جس کے کڑوے تیل کی صفائی اور بو ختم کرنے کے بعد درآمد کیا جاتا اور ہائیڈروجن گیس گذارنے کے بعد دیسی گھی جیسی شکل دے دی جاتی ۔

ابتدا میں لاہور اور کراچی سمیت بڑے شہروں میں عوام نے اس نئے تیل کا استعمال کرنا شروع کردیا ۔ 1961 تک پاکستان میں بناسپتی گھی کی 9 ملیں قائم ہوچکی تھیں۔ مگر دیہات تک بناسپتی گھی کو آتے آتے کم از کم دو دہائیاں لگ گئیں۔ 1980 کی دہائی تک پاکستان کے طول و عرض میں بناسپتی گھی چھا چکا تھا۔ دیسی گھی تو صرف وہی لوگ کھانے لگے جو اہل ثروت تھے۔ اب صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خالص دیسی گھی ہزار روپے فی کلو بھی دستیاب نہیں۔ اس وقت ملک بھر میں قائم 109 بناسپتی گھی ملیں روزانہ 50 ہزار ٹن سے زائد گھی اور کوکنگ آئل تیار کر رہی ہیں۔ جن میں کوکنگ آئل کی مقدار 25 سے 30 فی صد سے زائد نہیں۔ نباتاتی تیل کا کھانا پکانے کے لئے استعمال اتنی بری چیز نہیں تھی۔ مگر مقامی خوردنی تیل کی پیداوار بڑھانے کے لئے کوشش ہی نہیں کی گئی۔ اس وقت پاکستان کی خوردنی تیل کی کل طلب یعنی 21 لاکھ ٹن میں سے صرف تیس فی صد مقامی تیل سے پورا کیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس وقت چین اور بھارت کے بعد پاکستان ملائشین تیل کا تیسرا بڑا درآمد کنندہ ہے۔ پاکستان میں گھی کی فی کس سالانہ کھپت 18 کلوگرام جبکہ یورپی ممالک میں یہ صرف 3 کلوگرام ہے۔ اور درآمدی تیل پر منحصر گھی اور کوکنگ آئل کی صنعت میں 300 ارب روپے کا کاروبار ہورہا ہے۔ اگر شروع سے ہی خوردنی تیل کی مقامی فصلوں بشمول سرسوں، تل اور کپاس کے فروغ پر کام ہوتا تو درآمد شدہ پام آئل پر اتنا انحصار نہ ہوتا جس کا بے دریغ استعمال پاکستان میں ہر طرح کی بیماریاں پیدا کررہا ہے۔

طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ صنعتی سطح پر بناسپتی گھی کی تیاری میں بڑی مقدار میں ٹرانس فیٹی ایسڈ اور مضر صحت نکل کے استعمال سے بھی ذیابیطس ، ذہنی امراض ، دل کی بیماریاں اور کینسر جیسی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کے مطابق گھی کے استعمال کی وجہ سے بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کی طلب کو محدود کرنا اور بعد میں ترک کرنا ناگذیر ہے۔ 2020 میں ہائڈروجن گیس سے گذارنے کے بعد پام آئل کو گھی میں تبدیل کرنے کا عمل پاکستان میں رک جائے گا۔ مگر مارجرین سمیت کئی مصنوعات میں ہائڈروجینیڈ فیٹس کا استعمال نہیں رکے گا۔ مارجرین کا استعمال دنیا بھر میں جاری ہے۔ اس لیے اس کی تیاری کے لئے پام آئل کی درآمد کرنی ہی پڑے گی۔ اسی طرح مقامی تیلدار فصلوں خصوصاً کینولا کی کاشت کا رقبہ بڑھانا پڑے گا تاکہ پام آئل کی درآمد میں کمی کے بعد بیرون ملک سے مہنگا سویا بین، سن فلاور اور کینولا آئل منگوانا نہ پڑے۔

اس سلسلے میں حال ہی پنجاب حکومت نے کینولا کی کاشت کے لئے سبسڈی کا اعلان کیا ہے۔ جس کا اطلاق فصل کی رواں بوائی کے دوران ہوگا۔ اب پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اقدام کی کامیابی کا انحصارصرف اس بات پر ہے کہ گھی کی پیداوار پر پابندی پورے ملک میں ہو اورمعیاری کوکنگ آئل کی فراہمی سستے داموں ہو۔ ورنہ پاکستانی عوام کے منہ کو لگے بناسپتی گھی کو ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔

Tabool ads will show in this div