این سی ایچ ڈی میں مبینہ جعلی ڈگریوں کے حامل افسران و اہلکاروں کا انکشاف

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : انکشاف ہوا ہے کہ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی میں 150 کے قریب افسر اور اہلکاروں کی ڈگریاں جعلی ہیں، برسوں سے سرکاری خزانے کو چونا لگانیوالے جعلسازوں کا بھانڈا پھوٹ گیا۔


قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے 143 افسروں کی ڈگریاں جعلی نکلیں، یہ دھماکہ خیز انکشاف تب ہوا جب حکومت نے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیا، ان افسران کو ایم اے، ایم ایس سی، ایم بی اے کی غیر مصدقہ کاپیوں پر بھرتی کیا گیا تھا۔


این سی ایچ ڈی کی مرتب کردہ فہرست اور اعلیٰ افسران کے سرکاری ای میلز ریکارڈ کے مطابق  پنجاب کے مختلف اضلاع میں تعینات 673 ملازمین سے بارہا ڈگریاں مانگی گئیں، 471 نے اپنی اصلی ڈگریاں مہیا کیں باقی نے جواب تک دینے کی زحمت نہیں کی۔


گول مال کا چکر چلانے والوں میں سے کچھ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر، تو کچھ ایڈمن و فنانس آفیسرز اور ڈسٹرکٹ جی ایم ہیں، یہ ملازمین پنجاب کے اضلاع ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکپتن، ساہیوال، میانوالی، بھکر، لیہ، اٹک، چکوال، ڈی جی خان، بہاولپور، چنیوٹ، جھنگ، ملتان، قصور، مظفرگڑھ، راجن پور، اوکاڑہ اور وہاڑی میں دھڑلے سے نوکری کررہے ہیں۔


ذرائع کے مطابق این سی ایچ ڈی کے جعلی ڈگری والے 42 افسروں اور اہلکاروں کو برطرف کیا جاچکا ہے، اب فیصلہ یہ ہوا ہے کہ جن افسران نے اصل ڈگریاں فراہم نہیں کیں ان کی تنخواہیں روک دی جائیں گی اور تمام ملازمین کی اسناد کی چھان بین ایچ ای سی سے کرائی جائے گی۔ سماء

میں

کے

کا

Ayan Ali

سی

فٹبال

ڈی

ایچ

euros

افسران

inspiration

Tabool ads will show in this div