نواز شریف اور عمران خان کے مقدمات کی مماثلت

عمران خان کے خلاف نااہلی کا مقدمے کا فیصلہ بھی آنے کو ہے، حنیف عباسی کے وکیل دلائل دیتے ہوئے اس بات پر زور دیتے نظر آئے کہ عمران خان کا مقدمہ بھی نواز شریف کے مقدمے جیسا ہے کہ جس میں غلط بیانی بھی کی گئی اثاثے بھی چھپائے گئے اورمکمل منی ٹریل بھی نہیں فراہم کی گئی اور ریکارڈ پیش کرنے میں وہی بہانے لگائے گئے جو شریف خاندان کے وکلاء لگاتے رہے کہ اس وقت ریکارڈ موجود نہیں ہوتا تھا اور تو اور تحریک انصاف کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ عدالت جو جو نقاط اٹھا رہی ہے وہ تو حنیف عباسی کی پیٹشن میں ہے بھی نہیں۔ عمران خان کی منی ٹریل پر محترم چیف جسٹس نے کہا کہ ساڑھے ترانوے فیصد منی ٹریل فراہم کر دی گئی ہے اور ساڑھے چھ فیصد رہتی ہے۔ عمران خان کے کیس میں اہلی اور نااہلی کا فیصلہ تو بہرحال عدالت نے کرنا ہے مگر ابھی تک کی سماعت کے بعد تحریک انصاف اور ن لیگ دونوں کے لیے سبق ہونا چاہیے۔

تحریک انصاف کے لیے یہ کہ پانامہ کیس میں جب اثاثے چھپائے جانے کا انکشاف ہوا تو خان صاحب کے کیس میں بھی وہی انکشاف ہوا اس سوال سے قطعہ نظر کہ کس نے ستانوے میں ظاہر نہیں کئے یا کس نے دو ہزار تیرہ میں ظاہر نہیں کیے دوسرا یہ کہ جھوٹ بولا گیا یاغلط بیانی کی گئی کہ جس طرح شریف خاندان نے کی جس طرح انکے بیانات میں تضادات موجود ہیں اسی طرح خود خان صاحب کے بیانات میں تضادات بھی موجود ہیں تیسرا پانامہ کیس میں تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ بار ثبوت شریف خاندان پر ہے جبکہ شریف خاندان کا کہنا تھا کہ بار ثبوت الزام لگانے والے پر ہے مگر یہی تحریک انصاف خان صاحب کے کیس کے دوران کہہ چکی ہے کہ بارثبوت الزام لگانے والے پر ہے اسی طرح منی ٹریل پر تحریک انصاف کا بیانیہ وہ نہیں جو پانامہ کیس میں تھا سو تحریک انصاف کو سوچنا چاہیے کہ دوسروں کو پرکھنے کے جو معیارات قائم کئے جائیں وہی اپنے اوپر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ اب آتے ہیں ن لیگ کی طرف تو جس طرح تحریک انصاف کے لیے سخت پیمانہ رکھا گیا جو کہ ہونا بھی چاہیے وہی پیمانہ انکی اپنی قیادت کے لیے بھی ہونا چاہیے یہ نہیں ہو سکتا کہ تحریک انصاف کی قیادت تیرانوے فیصد منی ٹریل دینے کے بعد بھی قصوواراور مجرم ٹھرے اور انکی اپنی قیادت ایک فیصد بھِی منی ٹریل نہ دے سکے اور آپ قیادت پر شک کرنے کی بجائے ان کے دفاع میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں خان صاحب کے بیانات کے تضادات تو نظر آئیں ااپنی قیادت اور انکے بچوں کے بیانات کے تضادات نظر نہ آئیں یہ کیسے ممکن ہے کہ خان صاحب کےچھپائے گئے اثاثے تو غلط ہوں مگر اپنی قیادت کے اثاثوں پر سوال کرنے کی بجائے انکا دفاع شروع کر دیں اور آپ کی قیادت سارے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے یہ واویلا شروع کر دے کہ میرے خلا ف سازش ہو رہی ہے الٹا عدلیہ اور ججوں پر انگلیاں اٹھانا شروع کردیں اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے اور پارٹی صدارت دوبارہ سنبھالنے کے بعد یہ تاثر دینا شروع کر دیا جائے کہ انتقام لے لیا شکست دے دی وغیرہ وغیرہ جب تک دونوں طرف سے اپنی اپنی قیادت کا دفاع کیا جاتا رہے گا الزام تراشی جاری رہے گی اپنی قیادت کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان سمجھا جاتا رہے گا تب تک ہم منظم قوم نہیں کہلائیں گے ہم سمجھدار معاشرہ نہیں بنا پائیں ہم ترقی نہیں کر پائیں گے اور سب سے بڑھ کر ہم جمہوریت کے پھل سے فیضیاب نہیں ہو پائیں گے۔

PTI

IMRAN KHAN

PML N

Panama

IK disqualification

Tabool ads will show in this div