کم عمر محنت کش تشدد کی زد میں

Acid attack victim Afshah, 10, poses at Khanwala village in Multan on March 15, 2012. Acid attacks are among the worst forms of domestic violence in Pakistan and mostly directed at women, who are too often classified as second-class citizens. Victims are disfigured for life and ostracised by society. Pakistan's parliament late last year adopted tougher penalties for the crime, increasing the punishment to between 14 years and life, and a minimum fine of one million rupees (11,000 USD). AFP PHOTO / Bay ISMOYO (Photo
Acid attack victim Afshah, 10, poses at Khanwala village in Multan on March 15, 2012. Acid attacks are among the worst forms of domestic violence in Pakistan and mostly directed at women, who are too often classified as second-class citizens. Victims are disfigured for life and ostracised by society. Pakistan's parliament late last year adopted tougher penalties for the crime, increasing the punishment to between 14 years and life, and a minimum fine of one million rupees (11,000 USD). AFP PHOTO / Bay ISMOYO (Photo

تحریر : شکیلہ شیخ

کچھ چھوٹے چھوٹے خواب تھے آنکھوں میں، کچھ معصوم سی خواہشات تھیں، گڑیا کی شادی کرنا، چوڑیاں پہننا سہلیوں کے ساتھ کھیلنا اور روز صبح اسکول جانا لیکن افسوس یہ صرف خواب ہی رہے کیونکہ اماں ابا نے ملازمت کیلئے بنگلوں میں بھیج دیا، وہا ں مہینہ بھر گھر سے، بہن بھائیوں، سہلیوں سب سے دور ایک غلاموں والی زندگی شروع ہو جاتی ہے، یہ صرف ایک بچی کی کہانی نہیں، ہمارے معاشرے خاص کر ہمارے پاکستان میں غریب گھرانوں کیلئے ایک بہت عام سی بات ہے، چند ہزار روپوں کے عوض محنت کش بچیوں کو ایڈوانس تنخوا کے نام پر گھروں میں ٹھیکے پر دے دیا جاتا ہے، اس حوالے سے باقاعدہ معاہدہ طے پاتا ہے جس میں گھروں کے مالکان بچوں کے والدین یا دیگر رشتہ دار موجود ہوتے ہیں اور مدت ملازمت، کام کی نوعیت اور دیگر شرائط طے کرکے بچوں کو مالکان کے حوالے کردیا جاتا ہے، اس قسم کے معاہدے خفیہ کئے جاتے ہیں جس میں کوئی کاغذی کارروائی عام طور پر نہیں ہوتی۔

گزشتہ برس پاکستان 167 ممالک کے گلوبل سلیوری انڈیکس یعنی غلامی کے عالمی اشاریے میں چھٹے سے تیسرے نمبر پر آگیا تھا، گلوبل سلیوری انڈیکس ترتیب دینے والے ادارے واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق اس وقت پاکستان میں 21 لاکھ سے زیادہ بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں، زیادہ تر یہ لوگ دیہی علاقوں سے آتے ہیں اور انتہائی غریب ہوتے ہیں، مشکل حالات میں زندگی گزارنے والے والدین کچھ پیسوں کے عوض اپنے بچوں کو دوسروں کے گھروں میں کام کرنے کیلئے چھوڑ آتے ہیں، گھریلو ملازمین میں زیادہ تر چھوٹی عمر کی بچیاں رکھی جاتی ہیں کیونکہ نہ اس نے بولنا ہے اور نہ ہی کسی چیز سے انکار کرنا ہے۔

پیسے لینے کے بعد ماں باپ مہینہ مہینہ پوچھتے بھی نہیں ہیں کہ ان کی بچیاں کس حال میں ہیں، ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے؟، ان کو چھوٹی سی غلطی پر کس قدر مارا پیٹا جاتا ہے، ان پر تشدد کیا جاتا ہے، امراء تو یہ سمجھتے ہیں کے ہم نے پیسے دیکر ان بچیوں کو خریدلیا، اب جو مرضی سلوک کریں، یہ امراء اپنے گھروں میں کام کرنیوالی چھوٹی بچیوں پر تشدد کرتے وقت بھول جاتے ہیں کہ وہ بچی بھی انسان ہے، بعض اوقات یہ بچے معذور ہوجاتے ہیں یا ان کی موت واقع ہوجاتی ہے، بہت سی بچیاں تو جنسی تشدد کا بھی شکار ہو جاتی ہیں، وہ کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتیں، اس عذاب سے گزرنے والی لڑکیاں ذہنی اور جسمانی صحت کے مسائل کا شکار رہتی ہیں۔ ڈپریشن تو لازمی بات ہے، ڈپریشن کی وجہ سے قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور بس مسائل کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔

ایک رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 11 سال سے 15 سال کے بچیاں سب سے زیادہ جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں، ملک میں لڑکیوں پر تشدد کی شرح لڑکوں کی نسبت زیادہ رہی، جہاں 2141 لڑکیاں جنسی تشدد کا شکار بنیں، پاکستان میں آئے دن گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور ان کی کوئی رپورٹ نہیں ہوتی، گھریلو ملازمین پر تشدد کے تقریباً 80 سے 90 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے، لیکن اب سوشل میڈیا کے ذریعے بہت سارے کیسز سامنے آنے لگے ہیں، جن میں تشدد ہونے کے بعد ماں، باپ اور رشتہ دار انصاف کیلئے پولیس اسٹیشن کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔

ابھی حال ہی میں وطن عزیز کی اینکر پرسن خاتون نے بھی ایک کم عمر لڑکی کو اپنے گھر میں زر خرید رکھا ہوا تھا اور اس پر تشدد کے معاملات بھی سامنے آئے تھے، قصور ان بچوں کے ماں باپ کا ہے جو خود اپنی کم عمر بچیوں کو چند پیسوں کے عوض دسروں کے گھروں میں چھوڑ دیتے ہیں، محنت مشقت کیلئے غربت کو بہانہ بناکر ان بچیوں کے پیسے سے مزے کرتے ہیں، ان امراء سے بھی گزارش ہے اگر کوئی آپ کے گھر اپنی بچی چھوڑ کر جاتا ہے تو خدارا ان معصوموں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کریں، ان کی تعلیم کا بندوبست بھی کریں، اگر ملازم رکھنا ہے تو کسی ایسے کو رکھیں جو سمجھ بوجھ رکھتا ہو، اسے اچھا معاوضہ دیں، بچے کی تعلیم کا خرچہ اٹھالیں جو اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے بچوں کو تعلیم اور تحفظ مہیا کرنا اور ان کی بہبود کیلئے قانون سازی کرنا۔

girls

Child Labour

Forced Labour

Tabool ads will show in this div