ممتاز قادری کی پھانسی کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ میں ممتاز قادری کی پھانسی کیخلاف اپیل پر وکلاء کے دلائل مکمل ہوگئے، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا ہے کہ کیا کسی کے بُرے کردار پر اسے قتل کرنا جائز ہے؟۔

جسٹس نور الحق قریشی اور جسٹس شوکت صدیقی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ممتاز قادری کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا، دوران سماعت جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ پھانسی کا فیصلہ تحریر کرواتے ہوئے جج نے کہیں بھی شواہد کا ذکر نہیں کیا، فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ فائرنگ کے بعد عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف نے کہا کہ ملزم نے خود سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا اعتراف کیا، جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ کیس کی نوعیت کو مدنظر رکھیں، آپ نے تو کل ہی کہہ دیا تھا کہ جو کرنا ہے عدالت نے ہی کرنا ہے، آرٹیکل 295 سی کا الزام ثابت کرنے کیلئے کون سے ثبوت پیش کرنے ہوتے ہیں؟۔

میاں عبدالرؤف کا کہنا تھا کہ اگر تحریری طور پر توہین رسالت ﷺ کی گئی ہو تو وہ شواہد پیش کئے جاتے ہیں، اگر زبانی بات کی گئی ہو تو اس کیلئے گواہان پیش کئے جاتے ہیں، درخواست گزار نے ابھی تک کوئی اخباری مواد پیش نہیں کیا، جس میں توہین رسالتﷺ کے قانون کو بلیک لاء کہا گیا ہو، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ کیا کسی کے بُرے کردار پر اسے قتل کرنا جائز ہے۔

سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر اور 2 بیٹیوں نے تحریری جواب جمع کرایا، جس میں ممتاز قادری کی پھانسی کیخلاف اپیل خارج کرنے کی درخواست کی گئی اور کہا گیا کہ ممتاز قادری رحم کے قابل نہیں، وہ سلمان تاثیر کا محافظ تھا اس نے اپنے فرض سے غداری کی۔ سماء

فیصلہ

olympic