سپریم کورٹ : 21ویں ترمیم کیخلاف درخواستیں 18ویں ترمیم کیس سے ملا کر سننے کا فیصلہ

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے 21ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں کو 18ویں ترمیم کیس کے ساتھ ملا کر سننے کا فیصلہ کیا ہے، تمام فریقین سے 24 فروری تک جامع جواب طلب کرتے ہوئے چیف جسٹس کہتے ہیں کہ طے کرنا ہوگا آئين کا کوئی بنيادی ڈھانچہ ہے بھی يا نہيں۔

سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 21ویں آئینی ترمیم کیخلاف دائر 11 درخواستوں کی سماعت کی، عدالت نے ان درخواستوں کو 18ویں ترمیم کیس کے ساتھ یکجا کرنے کا حکم دے دیا، 18ویں ترمیم کیس کے تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیئے گئے۔

عدالت نے قرار دیا کہ 18ویں اور 21 ویں آئینی ترمیم کیس میں ایک ہی جیسے قانونی نکات پر فیصلہ درکار ہے، 18ویں ترمیم کیخلاف درخواستیں بھی زیر التواء ہیں، ان کو بھی سننا ضروری ہے، عدالت نے تمام فریقین کو 24 فروری تک جامع جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تمام جوابات اور ابتدائی سماعت مکمل ہونے کے بعد فل کورٹ تشکیل دیا جائے گا، اٹھارہویں ترمیم کیس میں بنیادی ڈھانچے کا ذکر ہے جو موجودہ درخواستوں میں بھی ہے، دیکھنا ہوگا کہ آئین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ ہے بھی یا نہیں، اگر آئین کا بنیادی ڈھانچہ ہے تو کیا پارلیمنٹ اس میں ترمیم کرسکتی ہے۔ سماء

فیصلہ

کیس

promise

Tabool ads will show in this div