پاکستان پر زلزلہ اکتوبر کی قیامت ٹوٹے بارہ برس بیت گئے

اسلام آباد: پاکستان پر زلزلہ اکتوبر کی قیامت ٹوٹے بارہ برس بیت گئے، متاثرین کی زندگیوں قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکومتی تیاریوں اور خطے کی ارضیاتی ساخت پر آٹھ اکتوبر دوہزار پانچ کے زلزلے کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں ۔

آٹھ اکتوبر دوہزار پانچ کی صبح آٹھ بج کر باؤن منٹ پر کشمیر سے پاکستان کے طول و عرض تک زمین لرز اٹھی ، پہاڑ اپنے باسیوں پر ٹوٹ پڑے گھر اپنے ہی گھرانوں کو کھا گئے، زمین ہزاروں زندگیاں نگل گئی اور لاکھوں متاثرین بے گھر بھی ہوگئے ۔

اسلام آباد میں صف ماتم بچھ گئی تو شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیرکے کئی علاقوں میں تو ماتم کرنے والا بھی کوئی نہ بچا ، اس گزری قیامت کے اثرات پر ماہرین کہتے ہیں، پامیر، ہندوکش اور ہمالیہ کے ملاپ سے بننے والا پریشر بڑا خطرہ ہے ۔

، ڈائریکٹر زلزلہ پیما مرکززاہد رفیع کا کہنا تھا کہ اب 7 شدت کا زلزلہ دس سال میں ایک مرتبہ جبکہ 6 شدت کا زلزلہ 4۔5 سال میں متوقع کیا جا سکتا ہے جبکہ چھوٹے زلزلے تو آتے ہی رہتے ہیں۔

سانحہ اکتوبرنے جھنجھوڑا تو ریاستی اداروں کو بھی کچھ اقدامات کی سوجھی ،2005 میں زلزلہ پیما مراکز کی تعداد 6 کے قریب تھی جو اب 30 کے قریب ہے 5 اور مراکز بلوچستان میں لگائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے عمارتوں، سڑکوں اور دیگر تنصیبات کا انفراسٹرکچر مضبوط بناکر ہی بڑی ایسی تباہیوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ سماء

MET OFFICE

EARTH QUAKE

Tabool ads will show in this div