جھل مگسی میں مزار پر دھماکا، 18 افراد جاں بحق

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/10/Jhal-Maghsi-Blast-Ex-05-10.mp4"][/video]  

جھل مگسی: صوبہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں واقع درگاہ فتح پور پر خود کش دھماکے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بلوچستان کے علاقے جھل مگسی میں واقع درگاہ فتح پور شریف کے مرکزی دروازے پر مبینہ خودکش دھماکے میں 18 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے، کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

پولیس کے مطابق ممکنہ خود کش دھماکا درگاہ فتح پور شریف کے مرکزی گیٹ پر ہوا اور اس وقت مزار پر عرس جاری تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ریسکیو کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو ضلعی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ مقامی انتظامیہ نے سبی اور ڈیرہ مراد جمالی کے ہسپتالوں میں ہنگامی صورت حال نافذ کردی ہے۔

شاہ نورانی کے مزار میں خودکش دھماکا،62 افراد ہلاک،100سے زائد زخمی

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ جھل مگسی میں مزار پر دھماکے کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کردی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکار کے روکنے پر خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا۔

ڈپٹی کمشنر اسد اللہ کاکڑ نے تصدیق کی ہے کہ ممکنہ خود کش دھماکے میں اب تک 12 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، زخمیوں کو ڈی ایچ کیو، رنداوا اور سندھ کے قریبی شہر منتقل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل نومبر 2016 میں بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں حب کے قریب واقع شاہ نورانی کے مزار پر ایک خود کش دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 62 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ سماء

SUICIDE ATTACK

Sarfraz Bugti

Shrine Blast

district Jhal Magsi

Fatehpur Dargah

Tabool ads will show in this div