احتساب کی سیاست

نااہل وزیراعظم نے اہلیت تک کی چھلانگ لگالی۔ اب وہ ایک اہل پارٹی صدر بن گئے ہیں۔ خود کو ن لیگی شیروں کی کچھار میں پایا تو غرائے اور مخالفین کو للکارا۔ کارکنان کا جذبہ ابھارا، ناراض ساتھیوں کو پکارا، طاقت کی ٹانک ملی اور صدارت کا تاج سرپر سجا تو جناب ایک بار پھر ٹکراؤ کی راہ پر چلنے لگے۔ نواز لیگ کیا ہارتے جواری کی طرح آخری داؤ کھیلنے جارہی ہے؟

ن لیگی سرکار سب کے احتساب کا پرکشش نعرہ لگا کرایک بار پھر سیاسی ماحول کو حدت بخش رہی ہے۔ ن لیگی جانثاران  اپنی قیادت کے احتساب کو عذاب سمجھ رہے ہیں جبکہ عوام یہی احتساب محض ایک سراب سمجھ رہے ہیں۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ ارض پاک پر ’’کرپٹ ٹولے‘‘ سے حساب کتاب لینا کوئی نئی بات تو ہے نہیں۔

نوے کے عشرے میں جب طویل آمریت کے بعد وطن عزیز پرجمہوری آفتاب کی کرنیں پڑی ہی تھیں کہ سیاسی پہلوان دھینگا مشتی پر اترآئے۔  کسی پر کرپشن کنگ کا الزام لگا تو کسی کو کرپشن کوئین کا خطاب دیا گیا۔ یوں 1988 سے 1999 تک چار حکومتیں خرد برد اور بدعنوانی کی نذر ہوئیں۔ ہر بار یہی لگا کہ اب کرپٹ عناصر کا صفایا ہوگا اورسوہنی دھرتی کا سینہ چاک کرنے والوں کا بھرپور احتساب ہوگا۔ لوٹی ہوئی دولت آئے گی تو ملکی فضا معاشی لحاظ سے خودکفالت کی خوشبو میں معطر ہوجائے گی۔ مگر افسوس کہ ساری مشق دیوانے کا خواب ہی ثابت ہوئی۔

احتساب کا نعرہ جب بھی لگا،بڑادلفریب لگا مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کے خاطر خواہ نتائج بھی برآمد ہوئے ؟ کرپشن کے قصوں میں شہید محترمہ کی بے نظیر کہانیاں ہوں یا نواز شریف کی اپنوں پر نوازشیں اور جائیداد بنانے کا گھن چکر، ان تمام معاملات میں نہ تو شفاف احتساب ہوا اور نہ ہی لوٹٰی ہوئی دولت وطن واپس لائی گئی۔ حکومتیں گرائی گئیں، وزرائے اعظم بدلے گئے،فوجی حکومتیں بھی آئیں مگر پرنالہ وہیں کے وہیں رہا۔ کیوں ؟ کیونکہ احتساب کا نعرہ مستانہ صرف سیاست تک محدود رکھا گیا ہے ۔ ن لیگ ہو، تحریک انصاف،پیپلزپارٹی یا پھر جماعت اسلامی، سب احتساب کے نام پر سیاسی دکان چمکا رہے ہیں۔

پانامہ کا ہنگامہ اٹھا تونواز فیملی پکڑ میں آگئی مگردوسرے چوروں کا کیا بنا جن کے نام بھی پانامہ اسکیںڈل میں شامل ہیں؟ جیالے لیڈر آصف علی زرداری پر کرپشن کے مقدمات بنے ۔ برسوں جیل کاٹی، عدالتوں کی پیشیاں بھگتیں مگر ثابت پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ کیسز ختم، قوم کا پیسہ ہضم ۔ نہ 60 ملین ڈالر واپس آئے اور نہ ہی سرے محل کا کچھ اتہ پتہ چلا۔ الٹا قوم کےکروڑوں روپے تفتیش، تنخواہوں اور مقدمے بازی پر خرچ ہوگئے۔

بات کرپشن کی ہو تو تبدیلی سرکار کے وار بھی ذرا وکھرے قسم کے ہیں۔خٹک اینڈ کمپنی پر خرد برد کے داغ لگے ہیں مگر ان کا احتساب کون کرے؟ ضیاء اللہ آفریدی سمیت تحریک انصاف کے دیگر سابق کھلاڑیوں نے کھل کر الزامات لگائے ؟ مگر عمران خان کو خٹک سرکار سے پوچھنے کی توفیق ہی نہیں ہوئی۔ اسی طرح بینک آف خیبرکے اسکینڈل اور صوبائی احتساب کمیشن کے معاملے پر جماعت اسلامی کی خاموشی کیا معنی خیز نہیں؟ گزشتہ دور میں سرخ پوش جماعت اے این پی کے ایزی لوڈ کے چرچے کسے نہیں یاد؟ اس کا کیا بنا؟

سابق صدر پرویز مشرف نے کڑے احتساب کیلئے 2001 میں نیب قائم کیا مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ۔ نہ بڑے مگرمچھ پکڑ میں آئے نہ قومی خزانے کو ٹیکہ لگانے کا منحوس سلسلہ ختم ہوسکا۔  اب جب پانامہ کے ہنگامے کے بعد نواز فیملی احتساب کی زد میں ہے تو سرکار اداروں کی مضبوطی کا راگ آلاپ رہی ہے۔ احتساب کا نیا قانون لایا جارہا ہے جس کے تحت سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ جج اور جرنیلوں کو بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے گا۔

اندرکی خبر رکھنے والے کہتے ہیں کہ ن لیگ نے مخالفین سے دو دو ہاتھ کرنے کی بھرپور تیاری کررکھی ہے۔ شریف خاندان اور مقتدر اداروں کے درمیان خلیج کافی گہری ہوگئی ہے جسے پاٹنا اب اتنا آسان نہیں۔ موجودہ صورتحال سے لگ رہا ہے کہ ہم ایک بار پھر نوے کے عشرے کی جانب گامزن ہیں۔

سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ ن لیگی سرکار اپنے سردار کو ایک بار پھر تخت پر بٹھانے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔ معاشی لحاظ سے صورتحال بہت الارمنگ ہے۔عالمی مالیاتی اداروں نے معاشی ترقی کا چھ فیصد ہدف پورا نہ ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔  مجموعی قرضے 25 ہزار ارب روپے جبکہ بیرونی قرضے 83  ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

ایسے میں نیب ترمیم کا معاملہ چھیڑنا ، سیاسی دنگل سجانا، یا پھر مقتدر اداروں کو للکارنا یقیناً دانشمندی نہیں ہوگی۔ موجودہ سیاسی ارتعاش دیکھ کر لگتا ہے صورتحال میں مزید تناؤ آئے گا۔ سیاسی پارہ بھی کافی حد تک چڑھے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا  ن لیگ احتساب کی آڑ میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ پائے گی؟ کہیں نئی بوتل میں پرانا مشروب ڈال کر احتساب کے نام پر محض سیاست بازی تو نہیں ہورہی؟

ACCOUNTABILITY

Tabool ads will show in this div