جانتا نہیں میں کون ہوں

معاشرےکاعجب عالم ہے،جس کودیکھواعصابی تناؤ کاشکارہے۔ہرکوئی مسائل سےتنہاہی  نبردآزما ہے۔ کوئی کوئی خوش قسمت جس کوزندگی کی جنگ میں کسی کا ساتھ نصیب ہوا۔ اس نفسا نفسی نے ایک عام آدمی کو ہیجانی کیفیت میں مبتلاکیاہواہے۔جس کو دیکھوسرپرکفن باندھےہوئے ہے۔منٹ میں مرنے مارنے کو تل جاتا ہے۔ دلیل کازمانہ بیتےعرصہ ہوا ہے۔اب تومائٹ از ہی رائٹ ہے۔ہرکوئی  دوسرےکوتڑی دیتے ہوئے نظرآتاہے اور کہتا ہےکہ جانتا نہیں ، میں کون ہوں ۔ ہمارا مجموعی قومی رویہ اس ضمن مں کہاں کہاں ہمیں دن میں تارے دکھارہا ہے،اس کاایک جائزہ لیتےہیں

خطروں کےکھلاڑی ہمارےموٹرسائیکل سوار، ٹریفک سگنل بند ہوتو انکی بے تابی،بےچینی دیکھنےسےلائق ہوتی ہے۔ بارہا یہ تجربہ ہوا کہ کسی نے ان کو سمجھانے کی جسارت کی تو انہوں نےزندگی کو موت کی امانت قرار دے ڈالا۔ کسی نے زیادہ اصرارکیاتو طنزدےماراکہ جانتا نہیں،  میں کون ہوں۔  پتہ نہ ہلے گا ، نہ چلے گا ، ادھر سےاُدھر ہوجاؤگے ، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی ۔اپنی عزت کافالودہ کراکر، بڑے بے آبرو ہوکر تیرے گھر سے ہم نکلے۔اب یہ نوجوان ہیں، مستقبل کے معمار ہیں، دے مار ساڑھے چار ہیں۔

نادراسینٹر؛ ایک تو نام ہی کلاسک، سب ہوجاتے ہیں عاشق۔  ہم نے گھر شفٹ کیا تو بچوں کےاسکول میں داخلے کےلئے نئےشناختی کارڈ کی مہم درپیش ہوئی۔قریبی سینٹرپرانٹری دی توگھنٹوں طویل انتظارکےبعدکھڑکی پر پہنچے۔اندرپہنچنے پر بڑا اپنائیت بھرا ماحول ملا۔ سینٹرکے ملازمین جان پہچان والوں ، پرچی والوں اور سکہ رائج الوقت والوں کو انٹرٹین کررہے تھے۔ ان کو کچھ شرم دلانےکی سعی کی تو انہوں نےہمیں پیچھے کی جانب دھکیلتےہوئے کسی بھائی کو پکارا ۔ انہوں نے آتے ہی آنکھوں میں خون لاکرکہہ ڈالا، جانتانہیں ،میں کون ہوں ۔ہیڑا بن کرپیڑا کھانےکا مت سوچ، نوٹ ہیں تو بات کر، ورنہ آگے بڑھ ۔ وہاں سے ہم دُم دباکرکھسک لئے اور اپنے آپ کوسمجھایا کہ جس کو ہو دل وجاں عزیز،اس کی گلی میں جائےکیوں ۔

بارش کےموسم میں بغیر بجلی کےاٹھارہ گھنٹےگذارے۔مچھروں اورحشرات الارض نےجب اپنی نان اسٹاپ سروس جاری رکھی توہمارے پڑوسی ہمارے بےحداصرارپردادرسی کےلئےکےالیکٹرک کمپلین سینٹر پہنچ گئے۔وہاں ان کی  رسی کھینچ دی گئی۔ہوایوں کہ تنگ آئےہوئےتوتھےہی، مارے غصےکہ انہوں نےکچھ سخت سست کہہ ڈالا۔اس پران کوشہری ادارےکےملازمین نےہاتھوں ہاتھ لیا۔ شکرہےٹانگوں ،ٹانگ نہ لیاورنہ اس عمرمیں آؤٹ آف بیلنس ہوکر بہت ہی برے لگتے۔ان کوبھی شناختی پریڈ کےمرحلےسےگذاراگیا۔جانتا نہیں،میں کون ہوں پرحامی بھرنے کے بعد ہی ان کی گلو خلاصی ہوئی۔

غرض یہ کہ بچوں کی اسکول وین کا ڈرائیورہو یا انٹر سٹی بس والے ، ٹیلر ماسٹر ہو یا میڈیکل اسٹور والا ، جس کی چوری پکڑ لو، جس کواس کے جرم کا احساس دلانے کی کوشش کرو،وہاں سےیہی صداآتی ہے،جانتا نہیں میں کون ہوں۔اب ان کوکیابتائیں کہ ہم خودنہیں جانتےکہ میں کون ہوں۔ اپنے وطن میں ہوں کہ پردیس میں،اپنوں کے درمیان ہوں کہ غیروں میں ہوں۔ان سارےہیر پھیروں میں،کسی مہذب معاشرے کاحصہ ہوں کہ جنگل میں بستا ہوں،میری عزت،میراوقارکوئی وجودرکھتاہےکہ بھی نہیں، یقین کریں میں نہیں جانتا،نہیں جانتا،سچی میں نہیں جانتا۔

loose temper

behavioral problem

Tabool ads will show in this div